جیسے کوئی دیوانہ سر ٹکراتا ہے دیواروں سے

جیسے کوئی دیوانہ سر ٹکراتا ہے دیواروں سے
اس طرح محفل میں تری ہم تو چلے آتے ہیں
روز جلتے ہیں بجھتے ہیں چراغوں کی طرح
روز سورج کی طرح ابھرتے ہیں ڈھلے جاتے ہیں
نام لیتے ہیں تیرا خاموشی سے نہ جانے کیونکر
اپنی چاہت کی خواہشوں سے بھی ڈرے رہتے ہیں
تیرے حسیں سراپے کو سجایا ہے اپنی آنکھوں میں
خواب  کیسے میرے نینوں میں گلے رہتے ہیں
رقیبوں کی گلیوں میں بھی چکر لگا آتے ہیں
ایسے گلیوں میں بھی کچھ لوگ بھلے رہتے ہیں
سانس آتی ہے مگر ، روح تک اترتی ہی نہیں
زندگی سے بہت ہم کو گلے رہتے ہیں
اظہر تیرے لفظوں کی قیمت کوئی چکاتا نہیں
شعر جذبوں کے بنا کیونکر یوں پڑھے جاتے ہیں
ظلم اتنا بڑھ گیا ہے تیری میری دنیا میں
انساں خزاں کے پتوں کی طرح جھڑے جاتے ہیں
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: