وطن ایمان ہوتا ہے

آج پھر اسکے رباب میں دکھ تھا ، اور رباب پر تھرکتی اسکی انگلیاں جیسے سلو موشن میں حرکت کر رہی تھیں ، اور آنکھیں بھیگی ہوئیں تھیں
کیا ہوا گل خان ۔ ۔ ۔  آج بہت اداس ہو
ہاں مڑا  ۔ ۔ ۔ آج ہم کو ہمارا وطن یاد آتا ہے  ۔ ۔ ۔
کیوں آج کیا اسپیشل ہے  ۔ ۔ ۔
آج ہمارا یوم آزادی ہے  ۔ ۔ تم کو ن نہیں معلوم ؟
معلوم ہے  ۔ ۔ کل پریڈ بھی تو ہے ادھر جاؤں گا ۔ ۔
مگر ہم نہیں جائے گا  ۔ ۔ ۔
کیوں گل خان؟
ہم کو شرم آتا ہے  ۔ ۔ ۔
کس بات سے  ۔ ۔
مڑا ہم جس دیس کا گیت گاتا ہے ، جس کے حسن کی تعریف کرتا ہے وہ ہمارے پاس نہیں  ۔ ۔
تو تم واپس جانا چاہتے ہو
پتہ نہیں مڑا  ۔ ۔ ۔ پہلے ہم سوچتا تھا کہ ہمیں ہمارا وطن کے ساتھ عشق ہے ، یوسف شیر بانو جیسا عشق
وہ جیسے کہیں گم ہو گیا  ۔ ۔
رحمان بابا ، خوشحال خان جیسا عشق اپنے وطن کے ساتھ ، جو وطن کو ایمان سمجھتا تھا  ۔ ۔ مگر ہم  ۔ ۔
میں نے اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھ دیا  ۔ ۔ ۔
گل خان  ۔ ۔ ۔ وطن سے رشتہ تو ہے نا  ۔ ۔ ۔
یہ کیسا رشتہ ہے بابو صاحب  ۔ ۔ ۔ تم جس سے عشق کرتا ہے اسکے پاس نہیں جانا چاہتا ، ہم اپنا ایمان چھوڑ دیا  ۔ ۔ ۔
نہیں بابو نہیں یا تو ہمارا عشق سچا نہیں  ۔ ۔ ۔ یا ہمارا ایمان پکا نہیں  ۔ ۔  ورنہ ہم ادھر نہ ہوتا  ۔ ۔
بابو صاحب تم جب پریڈ میں جائے گا تو اپنا وطن نظر آئے گا نا ۔ ۔
ہاں   ۔ ۔ ۔ اسی لئے تو پریڈ ہوتی ہے  ۔ ۔۔
مگر بابو صاحب یہ پریڈ پر ہی وطن کیوں نظر آتا ہے باقی دنوں میں ہم  ۔ ۔ ۔
ہاں مگر دیکھو اگر سال کے ایک دن بھی اگر ہم وطن کو یاد کرتے ہیں تو اسکا مطلب ہے کہ ہم وطن کو نہیں بھولے  ۔ ۔ ۔
ہم تو ایک پل بھی نہیں بھولا بابو صاحب ۔ ۔  ایک بھی نہیں ۔ ۔ ۔
اسنے متورنم آواز میں صدا لگائی  ۔ ۔ ۔ اور رباب کی مدھر آواز پارک میں بکھر گئی  ۔ ۔ ۔
پھر جیسے نغمہ حزن نغمہ طرب بن گیا  ۔ ۔ ۔ رباب کی تال بڑھ گئی  ۔ ۔ ۔ وہ اٹھا اور رباب بجا کر گانا شروع کر دیا
وطن ایمان ہوتا ہے وطن جند جان ہوتا ہے
وطن سے دور رہ کہ  ۔۔  ۔ وطن ارمان ہوتا ہے
اور پھر آواز رندھ گئی  ۔ ۔ ۔
اپنے مسکن سے پرندے ، اڑ تو جاتے ہیں
شام ڈھلنے سے پہلے وہ واپس آتے ہیں
اپنے گھر پہ انکو بہت ہی مان ہوتا ہے
وطن ایمان ہوتا ہے ، جند جان ہوتا ہے
اور پھر میں بھی اسکے رقص میں شامل ہو گیا  ۔ ۔  ہم دونوں کو دیکھ کر بہت سارے لوگ اکھٹے ہو چکے تھے  ۔ ۔ اور تالیاں بجا رہے تھے بے شک وہ ایک لفظ نہیں سمجھ رہے تھے  ۔ ۔ ۔ مگر یہ ضرور جانتے تھے کہ یہ کوئی خوشی کا ہی گیت ہے  ۔ ۔
میرے گیتوں کی دھڑکن ہے
میرے شعروں کا ساجن ہے
وطن کی خوشبو سے جینا آسان ہوتا ہے
وطن ایمان ہوتا ہے  ۔ ۔  جند جان ہوتا ہے  ۔ ۔ ۔
اور پھر ایک نئی صبح کا سورج  ۔ ۔ ۔ طلوع ہو گیا  ۔ ۔ ۔
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: