لباس

شلوار قمیض ، ذہن میں آتے ہی یا تو کوئی مولانا یا پھر قومی اسمبلی کا رکن ذھن میں آتا ہے ، یا پھر کوئی مزدور پتھر کوٹتا ہوا ، مولانا نے اپنی عزت گنوا دی ہے ، قومی اسمبلی کا رکن کم ہی نظر آتا ہے اس لباس میں اور مزدور  ۔۔ ۔  وہ کسی کو نظر ہی کہاں آتا ہے
تقریبا ایک عشرہ سے میں یہاں گلف میں مقیم ہوں ، میں نے یہاں کے مقامی لوگوں (عربوں) کو ہمیشہ ہی انکے اپنے لباس میں ہی دیکھا ہے ، اور ایک ہم ہیں ، زمانے بھر کے فیشن کر لیں گے ، مگر اپنے لباس کو بہت ہوا تو جمعہ کے صرف نماز کے وقت پہنیں گے ، وہ بھی اگر دل کیا تو ورنہ عید کے دن صرف نماز کے وقت ، پچھلی عید پر ایک بچے سے ٹی وی میں کسی نے پوچھا کہ عید کے دن کیا کیا ہوتا ہے ، جواب یہ تھا کہ سویاں کھاتے ہیں ، مہمان آتے ہیں اور ہم شلوار قمیض پہنتے ہیں  ۔ ۔
آج ہی ہمارے ایک معروف بینک کے اعلان کیا ہے کہ اسکے ملازمین صرف اور صرف پینٹ شرٹ استعمال کریں گے اور شلوار قمیض کو سختی سے منع کر دیا گیا ہے ، وجہ وہی جو بانو آپا نے “حاصل گھاٹ “ میں لکھی تھی کہ یہ بھی کوئی لباس ہے ، ہمیں اکٹیو نہیں رہنے دیتا ، یہ تو سہل پسندوں کا لباس ہے (پاکستانی مزدور سے زیادہ سہل پسند؟) ، اور یہ ڈوپٹہ کبھی ادھر سنبھالو کبھی ادھر (کیونکہ ڈوپٹہ صرف ایک پٹی کا نام ہوتا ہے ، ورنہ اسکا استعمال کچھ اور ہی ہے ) ۔ ۔ ۔  یہ لباس ہمیں ہمارے کام سے روکتا ہے  ۔ ۔ ۔ جبکہ پینٹ شرٹ اکٹیو رکھتا ہے ، سو ہمیں اس فاسٹ زمانے کے ساتھ چلنا ہے
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اسی دور میں افغان افواج ایک بہت اکٹیو فوج سے لڑیں ، شلوار قمیض میں ، اسی دور میں شلوار قمیض کو ایک فیشن انڈیسٹری نے قبول کیا اور حتہ کہ یورپ کے فیش ڈئزئنروں نے اس سے اپنے ڈزائین تیار کئے  ۔ ۔
شاید اپنی زبان اردو کی طرح ہم لباس کے معمالے میں بھی احساس کمتری کا شکار ہیں ، وجہ اسکی ہم خود ہیں ، دوسری قومیں اپنے لباس پر فخر کرتیں ہیں اور ہم  ۔ ۔ ۔ اسے پہن کر شرمندگی محسوس کرتے ہیں   ۔ ۔ ۔ ۔ دوسرے لوگ (مغرب زدہ ) شاید اسے اس لئے بھی پسند نہیں کرتے کہ یہ زیادہ ستر پوش لباس ہے دوسرے لباسوں کی بنسبت  ۔ ۔ ۔ میں نے دنیا کے لباسوں میں چین ترکی اور وسط ایشیائی ریاستوں کے لباسوں کو بہت عمدہ پایا ، اور انہیں نہ صرف تن ڈھانپنے میں آسانی ہوتی ہے بلکہ وہ خوبصورت بھی لگتے ہیں  ۔ ۔ ۔
مغرب ابھی تک کسی لباس کے بارے میں فیصلہ نہیں کر پایا ، اگر ایک یہودی اپنی ٹوپی پہنتا ہے تو یہ اسکا حق ہے مگر مسلمان کا نہیں اگر چرچ کی نن اسکارف پہنے تو صحیح مسلم عورت پہنے تو غلط ، برقعہ اور عبایا تو خیر سے اب ہمارے اپنے وطن میں متروک ہو رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ شاید اس لئے کہ اب ہم میں وہ غیرت نہیں رہیں جو اکبر الہ آبادی میں تھی
بے پردہ جب کچھ بی بیاں آئیں نظر
اکبر غیرت قومی سے زمیں میں گڑ گیا
پوچھا کہ آپ کا وہ پردہ کہاں ہوا
بولیں عقل پہ مردوں کی پڑ گیا
اللہ ہمیں نیک ہدایت دے (آمین)
Advertisements

One response to this post.

  1. Posted by Iftikhar Ajmal on جون 21, 2006 at 1:59 صبح

    السّلام عليکم
    آپ نے ٹھيک کہا گرائيں ۔ ہماری قوم کی بدبختی يہ ہے کہ اپنی ہر چيز کو ناپسند کرتی ہے اور اپنی ہر حرکت پر خود ہی شرمندہ رہتی ہے ۔ ايک سچا لطيفہ سناؤں ۔ ہم کسی غيرمُلک ميں رہ رہے تھے ۔ وہاں کافی ہموطن رہتے تھے ۔ ايک خاندان ہمارے ہاں آيا تو اتفاق سے اُسی وقت ايک مقامی دوست اپنی زمين کی عمدہ مکئی تازہ بھُنی ہوئی لے کر آ گيا ۔ ميں نے اپنے ہموطن مہمانوں سے کہا پھُلے کھائيے ۔ ناک منہ چڑھا کر جواب ديا ہم پھُلے نہيں کہاتے ۔ کچھ دن بعد ہم اُن کے گھر گئے تو وہ بھُنی ہوئی مکئی کھا رے تھے ۔ ميں نے کہا آپ پھُلے کھا رہے ہيں ؟ جواب ملا نہيں يہ پاپ کارن ہيں ۔   
     

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: