فیصلہ

دیکھو یہ ستلی جو ہے اسے کھنچنا ہے ، ایک دم سے ، اسے نیفے میں اڑوس لو تا کہ تمہیں یاد رہے ، اور پھر سب نے اسے باری باری گلے لگایا ، رحیم ہی بس ایسا تھا جو اس زور سے لپٹنا چاہ رہا تھا مگر احمر نے اسے روک دیا ، احتیاط سے ، کہیں ادھر ہی  ۔ ۔ ۔ رحیم کی آنکھوں میں آنسو تھے  ۔ ۔  اسے یاد آیا کہ کل بھی وہ رہ رہا تھا یہ کہتے ہوئے کہ ، تمہارے بعد میرا دل نہیں لگے گا میں بہت جلد تمہارے پاس آ جاؤں گا ۔۔۔ نہیں نہیں ابھی تنظیم کو تہماری ضرورت ہے  ۔ ۔ وہ برسوں سے اس جیسے لوگوں کہ مشن پر بھیج رہا تھا ، مگر اس سے جانے کیوں اسکا دل اتنا لگ گیا  ۔ ۔ ۔ اسنے اپنے طور پر بہت کوشش کی تھی اسے روکنے کی  ۔ ۔ ۔ مگر شاید اسکے ارادے رحیم کی خواہشات سے زیادہ طاقت ور تھے  ۔ ۔ ۔ ایک دن رحیم نے اسے کہا
دیکھو  ۔ ۔  میں نے بہت سارے جوانوں کو ایسے رخصت کیا ہے ، انکے چہرے پر آنے والوں دنوں کی چمک تھی  ۔ ۔ ۔ اور ہم بھی ایسا ہی سوچتے تھے ، مگر اتنے سارے لوگوں کے بعد بھی کچھ نہیں ہوا  ۔ ۔ ۔ میں ہائی کمان کو بار بار کہ چکا ہوں کہ وہ حکمت عملی بدلیں مگر  ۔  ۔ وہ بھی کیا کریں  ۔ ۔ ۔ جب تک ایندھن ملتا رہے گا یہ آگ تو جلتی رہے گی  ۔ ۔ میرا پتہ نہیں کیوں دل نہیں کرتا کہ تم جیسے دوست کو اس آگ کا انندھن بناؤں ۔ ۔ ۔ وہ سر جھکا کر اسکی باتیں سنتا ، کہ رحیم سے آنکھ ملانا اسکی ہمت نہیں تھی
مگر رحیم بھائی  ۔ ۔ ۔ ہم اپنی منزل اور کیسے حاصل کر سکتے ہیں ، ہمارے وسائل نہیں ہیں ، ہم نے ہر راستہ دیکھ چکے ہیں مگر  ۔ ۔
نہیں دوست ہم نے ہر راستہ دیکھا ضرور ہے مگر ہر راستے پر چلے نہیں  ۔ ۔ ۔
کبھی کبھی وہ اسے تنظیم سے باغی لگتا جب وہ کہتا ، نہیں یہ بھی ہم میں سے ہیں ، جنکے خلاف ہم لڑ رہے ہیں ، ہمارے ہموطن ہیں ، ہم مذہب ہیں ، اور ہم جیسے ہی ہیں  ۔ ۔
تو پھر جھگڑا کس بات کا ہے  ۔ ۔۔ اس نے پوچھا تو رحیم نے سرد آہ بھر کر کہا
جھگڑا صرف جھگڑنے کے لئے ہے ، ہمیں خود نہیں معلوم کہ ہم کیوں لڑ رہے ہیں کب سے لڑ رہے ہیں
رحیم بھائی آپ کیسی باتیں کرتے ہو ، ہمارا مقصد واضح ہے ، جن لوگوں نے ہمارے مذہب کو ہائی جیک کیا  ۔ ۔ ۔ ۔
کسی نے نہیں کیا ہمارے مذہب کو ہائی جیک  ۔ ۔ ۔ وہ تڑپ اٹھا  ۔ ۔ ۔ ارے جب خدا اور اسکے رسول(ص) نے اجازت دی ہے مختلف طریقے سے عبادات کی تو میں اور تم کون ہوتے ہیں  ۔ ۔ ۔ کسی کو سبق سیکھانے والے  ۔ ۔ ۔
مگر وہ بھی تو ہمیں ۔ ۔ ۔ نقصان پہنچاتے ہیں
تو کیا انتقام در انتقام اسکا علاج ہے  ۔ ۔  ۔
پتہ نہیں مگر جب  ۔ ۔ ۔ وہ ہماری مسجد میں نمازی شہید کرتے ہیں تو کہاں کے مسلمان۔ ۔
اور جب ہم اپنے ہی جیسے کلمہ پڑھنے والے کو مار دیتے ہیں تو ہم کہاں کے مسلمان  ۔ ۔ ۔
وہ منافق ہیں  ۔۔  ۔
کیا تم نے انکے دل میں جھانک کہ دیکھا ہے ؟
انکے عمل سے پتہ چلتا ہے انکی  ۔ ۔ ۔ ۔ باتیں اور کتابیں سینہ چھلنی کر دیتی ہیں دل کرتا ہے کہ  ۔ ۔ ۔ ابھی جا کہ ایسے تمام جگہ کو آگ لگا دوں  ۔ ۔ ۔
وہاں قرآن بھی ہو گا کیا وہ نہ جلے گا ۔  ۔ ۔ ۔
اللہ کو ہماری نیت کا پتہ ہے  ۔ ۔ ۔
اور وہ نیت ہے انسان مارنے کی  ۔ ۔ ۔ جبکہ ایک انسان کا قتل انسانیت کا قتل ہے  ۔ ۔ ۔
یہ انسان کہاں ہیں  ۔ ۔ ۔  وہ پھر بحث بڑھاتا  ۔ ۔  اور رحیم جھنجھلاہٹ میں کہ اٹھتا
پھر ایسا ہی کچھ وہ بھی سمجھتے ہیں  ۔ ۔ ۔ میں سوچتا ہوں میں بھی تو انکے جیسا ہوں
نہیں  ۔ ۔ رحیم بھائی آپ انسے خود کو کیسے ملاتے ہو  ۔ ۔ ۔آپ تو  ۔ ۔ 
میں کچھ بھی نہیں  ۔ ۔ ۔ شاید مجھے بھی ایک دن اسی فساد کا حصہ بننا ہو گا  ۔ ۔ ۔
لو ، ناظم صاحب سے بات کرو  ۔ ۔ ۔ فیصل نے اسے موبائیل پکڑایا  ۔ ۔ وہ یادوں سے لوٹ آیا
مبارک ہو بیٹا  ۔ ۔ ۔ تم بہت بڑی سعادت حاصل کرنے جا رہے ہو  ۔ ۔  وہاں جا کہ ہمارا سلام کہنا  ۔ ۔ ۔ ہم تہمارے  لئے خصوصی دعا کر رہے ہیں ، یاد رکھو تہمارا یہ مشن  ۔ ۔  ہماری منزل کی سمت ایک اور بڑی جست ہو گا ۔  ۔ ۔خدا حافظ ۔  ۔
وہ انسے کچھ کہنا چاہتا تھا ، مگر ہمیشہ کی طرح نہ کہ پایا  ۔  ۔۔  ناظم صاحب کا لہجہ ہی ایسا ہوتا کہ کوئی انکے سامنے بول نہیں سکتا تھا  ۔ ۔  ۔۔
فی امان اللہ  ۔ ۔۔  یہ لو موٹر سائیکل کی چابی  ۔ ۔  ۔
اور پھر وہ  اپنی مطلوبہ جگہ پر پہنچ گیا  ۔ ۔ ۔ جمہ تھا رش تھا ، اسنے موٹر سائیکل پارک کی اور اپنا ٹوکن لیا ، سر اٹھایا تو دیکھا لوگ مسجد کی طرف جا رہے تھے ، کسی کے سر پر ٹوپی تھی امامہ تھا  ۔ ۔ ۔ اور کوئی ننگے سر ہی  ۔ ۔ 
دیکھو آرام سے بیٹھنا ، مسجد کا احترام کرتے ہیں  ۔ ۔  اسے پاس سے آواز آئی ، ایک آدمی اپنے بچے کی انگلی پکڑے مسجد کی طرف جا رہا تھا  ۔ ۔  اسے یاد آیا  ۔ ۔ ۔ اسکے بھائی جان اسے ایسے ہی مسجد لے جایا کرتے ، اور راستے بھر میں بتاتے کہ کیسے بیٹھنا ہے ، مگر ادھر جماعت کھڑی ہوتی ادھر اسنے صفوں کے بیچھ میں بھاگنا شروع کرنا  ۔  ۔۔ اکثر دوران جماعت اگر کوئی کھانستا تو وہ اسے اپنی جیب سے رومال نکال کر دیتا   ۔ ۔۔ اور کئی بار تو نمازیوں کی ہنسی چھوٹ جاتی  ۔  ۔۔
پھر اسے حافظ جی یاد آئے ، لمبے اور بزرگ ، جنکی چھڑی سے وہ ہمشہ ڈرتا تھا ، اکثر تلاوت میں جب وہ غلطی کرتا تو وہ اسکی پیٹھ پر اپنی چھڑی جڑ دیتے ، اور پھر اسے کافی دنوں تک یاد رہتی  ۔ ۔ ۔اور پھر ایک دن وہ مسجد سے بھاگ بھی گیا تھا  ۔  ۔ ۔ اسے وہ دن یاد کر کہ نہ جانے کیوں ہنسی آ گئی ، کیونکہ اس دن اسے حافظ جی سے بھی اور بابا جی سے بھی مار پڑی تھی  ۔ ۔ ۔
وہ مسجد کے دروازے پر پہنچ گیا تھا ، اسنے مڑ کر سڑک کی طرف دیکھا  ۔ ۔ ۔ مگر جیسے اسے اپنے علاوہ کوئی نظر نہ آیا  ۔ ۔ ۔ وہ  وضو خانے کی طرف مڑ گیا ، ستلی کو چیک کیا اور وضو کیا ، اور مسجد کے صحن میں بیٹھ گیا  ۔ ۔ ۔ ابھی زیادہ صحن بھرا نہیں تھا  ۔۔ اسنے سوچا کہ وہ نفل ہی پڑھ لے  ۔ ۔ ۔ اور جیسے ہی وہ کھڑا ہوا جیسے اسکا جسم بھاری ہو گیا  ۔ ۔ ۔ ہاتھ اٹھائے تو جیسے دل بھر آیا  ۔ ۔ ۔ سجدے تک جاتے جاتے وہ ہچکیاں لے کر رونے لگا  ۔ ۔ ۔ سلام پھیرنے تک اسکا جسم کانپتا رہا  ۔  ۔ ابھی اسنے نماز ختم ہی کی تھی کہ کسی نے اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھا ، ایک نورانی چہرے والے بزرگ تھے ، اسے اپنے بابا جی یاد آ گئے  ۔ ۔ ۔ بیٹا  ۔ ۔ ۔ اگر یہ شرمندگی کے اور کفارے کے آنسو ہیں تو سچے موتی ہیں اور اگر یہ کسی آنے والے وقت کا خوف ہے تو اللہ بہت رحیم و کریم ہے  ۔ ۔  وہ انکی طرف دیکھتا رہا  ۔ ۔ ۔ انکے چہرے سے جیسے نور نکل رہا تھا  ۔ ۔   ایک دم سے جانے کہاں سے ناظم صاحب کا چہرہ سامنے آ گیا  ۔ ۔ یہ لوگ منافق ہیں  ۔ ۔ انکی چکنی چپڑی باتوں پر نہ جانا  ۔ ۔ ۔ تکبیر کی آواز اسکے کانوں تک پہنچی اسنے کھڑے ہوتے ہوئے ستلی کو ایک بار پھر ہاتھ لگایا ، اسکے سامنے  ۔ ۔  ہزار چہرے جیسے ایک دم سے گھوم گئے ہوں  ، ۔ ۔ ۔ اسنے اپنے آگے پیچھے دیکھا  ۔ ۔ ۔ نمازی صفیں درست کر رہے تھے  ۔ ۔  بچوں کو پیچھے بھیجا جا رہا تھا  ۔ ۔ ۔اسکے کانوں میں فیصل کی آواز گونجی  ۔ ۔
کم سے کم ٤٠ یا ٥٠ کو مرنا چاہیے ، سو ایسی جگہ بیٹھنا جہاں زیادہ رش ہو   ۔  ۔
کم سے کم ٢٠٠ میٹر تک کا ایریا مکمل تباہ ہو جائے گا   ۔ ۔ ۔ مگر تہمیں کچھ نہیں ہو گا  ۔ ۔ ۔ سب ایک پل کا درد ہے  ۔ ۔ رحیم نے لقمہ دیا  ۔ ۔ ۔
آپ کو کیسے پتہ  ۔ ۔ ۔
میں محسوس کر سکتا ہوں  ۔ ۔ ۔ 
اللہ اکبر  ۔ ۔ ۔  اسنے غیر ارادی طور پر اپنے ہاتھ کانوں تک اٹھا دئیے  ۔ ۔ ۔ دوسری رکعت کے آغاز میں ٹھیک رہے گا  ۔ ۔  نہیں سجدے میں  ۔ ۔۔  نہیں اس میں شاید کم تباہی ہو  ۔ ۔ ۔ وہ تلاوت سن ہی نہیں پا رہا تھا  ۔ ۔ ۔ اسے لگا اسکے چاروں طرف سناٹا ہو  ۔ ۔  اور اس سناٹے کو اس نے توڑنا تھا  ۔ ۔ ۔ اللہ اکبر  ۔ ۔  وہ رکوع میں جھکا  ۔ ۔ ۔ اسکا ہاتھ جیسے خود ہی ستلی پر چلا گیا  ۔ ۔  اور پھر وہ سیدھا کھٹرا  ۔ ۔ دل پھر بھر آیا ۔۔۔ آنکھوں سے آنسو نکل پڑے  ۔ ۔  اللہ اکبر وہ سجدے میں تھا  ۔ ۔  رو رہا تھا  ۔ ۔  اللہ اکبر  ۔ ۔ وہ ابھی قعدے میں بیٹھا ہی تھا کہ ایک ننھی سی آواز آئی انکل رومال لے لیں  ۔ ۔  اسکے سامنے اسکا بچپن کھڑا تھا   ۔ ۔ ۔ اللہ اکبر  ۔ ۔ ۔ وہ سسکتا ہوا سجدے میں گیا بچہ بھی سائیڈ پر کھڑا ہو گیا  ۔ ۔ ۔ یہ کیوں کھڑا ہو گیا  ۔۔ ۔ ۔ اسنے اسے دھکیلا  ۔۔  مگر بچہ وہیں تھا  ۔  ۔ پھر جیسے اسکا بچپن اسکے سامنے آ گیا  ۔ ۔ ۔
کیا مجھے مارنے چلے ہو  ۔ ۔  اسنے نظریں اٹھائیں سامنے کی صف میں وہ نورانی چہرہ نظر آیا  ۔ ۔۔  حافظ جی  ۔ ۔ ۔  آج پھر غلطی کی  ۔ ۔  تجھے میری مار کا اثر ہوتا ہی نہیں  ۔ ۔ ۔ دوسروں کو مارنے چلا ہے  ۔ ۔  اور پھر جیسے اسکی پیٹھ پر حافظ جی کی چھڑی چلنے لگی  ۔ ۔ ۔ اللہ اکبر  ۔ ۔  وہ رکوع میں جھک گیا  ۔ ۔ ۔ہاتھ ستلی پر تھا  ۔  ۔۔ اس نے اسے زور سے پکڑ لیا  ۔ ۔  اب قیام میں آتے ہی  ۔۔ ۔ بیٹا  ۔ ۔ ۔ بابا جی کی آواز آئی  ۔ ۔ ۔ رب سب خطائیں معاف کرتا ہے  ۔  ۔ مگر اسے کبھی معاف نہیں کرتا جو ظلم کرتا ہے  ۔ ۔  ظلم کون کرتا ہے بابا جی  ۔ ۔  اسنے پوچھا  ۔ ۔ ہم تم  ۔ ۔ ۔ وہ کیسے  ۔ ۔ ۔ جب کسی کو یہ بھی نہ پتہ ہو کی اسکے ساتھ کیوں برا کیا جا رہا ہے تو اسے ظلم کہتے ہیں  ۔ ۔ ۔ ہم دوسروں کو انکے جانے بنا ہی سزا دیں تو وہ ظلم ہے  ۔ ۔ ۔ مگر ہم کسی کو کیوں سزا دیں گے  ۔ ۔ ۔ اسلئے کہ ہم خود ہی اپنے منصف بن بیٹھتے ہیں خود اپنے وکیل بھی ہوتے ہیں  ۔ ۔ ۔اور فیصلہ ہمیشہ ہمارے ہی حق میں ہوتا ہے  ۔ ۔  یہ بھی ظلم ہے  ۔ ۔ اللہ اکبر  ۔ ۔  وہ سجدے میں تھا ایک بار پھر اسے آنسوؤں کی جڑی لگ گئی  ۔  ۔۔ جنت خریدی جاتی ہے  ۔ ۔ ۔ رحیم کی آواز آئی  ۔ ۔ ۔ کیسے  ۔ ۔ بس اسکے لئے نفس کی دولت قربان کرنی ہوتی ہے  ۔ ۔  مگر ہم تو اپنی جان قربان کرتے ہیں تو کیا ہمیں جنت نہیں ملے گی
ہو سکتا ہے نہ ملے   ۔ ۔
کیوں  ۔ ۔  ہم تو حق پر ہیں  ۔ ۔ ۔
یہ بات دوسرے بھی کہتے ہیں  ۔۔ ۔
تو پھر فیصلہ کیسے ہو  ۔ ۔ ۔
نفس سے  ۔ ۔ ۔
وہ کیسے  ۔ ۔ 
تم کسی سے انتقام کی استطاعت رکھتے ہوئے بھی اس سے انتقام نہ لو
کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے  ۔ ۔
ہاں اگر نفس کو تسخیر کر لو تو  ۔ ۔ ۔
اسلام علیکم و رحمتہ اللہ  ۔ ۔ ۔  اور اسنے اپنی گردن گھما دی
اور ساتھ ہی اپنا نفس بھی تسخیر کر لیا  ۔ ۔ ۔
اسلام علیکم و رحمتہ اللہ
دوسری طرف سلام پھیرتے ہی اسکے جیسے سانس اٹک گئی  ۔ ۔ ۔
اس سے ایک نمازی کے بعد رحیم بھی موجود تھا جو اسے چمکتی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا  ۔ ۔
انکل چلیں میں خود آپ کے آنسو صاف کر دیتا ہوں اور بچے نے اسکی آنکھوں سے بہنے والی دھارا کو رومال میں جزب کر لیا  ۔ ۔ ۔
وہ اٹھ کھڑا ہوا  ۔ ۔  رحیم اسکے پاس تھا  ۔ ۔  اسنے اسے گلے لگا لیا  ۔ ۔
مجھ میں اور ہمت نہیں تھی  ۔ ۔ ۔ اس جنگ کا حصہ بننے کی  ۔ ۔ ۔
اور اسے ایسا لگا جیسے کہ وہ تپتے صحرا سے ایک دم کسی ائیر کندیشنڈ روم میں آ گیا ہو  ۔ ۔
اسنے اپنے آگے پیچھے دیکھا ہر نمازی کے چہرے پر نور تھا  ۔ ۔ ۔ اور رحیم کسی چاند کی طرح اسکے سامنے تھا  ۔ ۔
اور دوسری طرف جلتی آگ میں آج ایندھن نہیں ملا تھا  ۔ ۔ ۔ اور آگ سرد ہو رہی تھی  ۔ ۔۔
Advertisements

One response to this post.

  1. Posted by Orbit on جون 19, 2006 at 5:34 شام

    Really nice way to teach these peoples. keep it up the nice work, togather we can change the public opinon.
     
    Jazak Allah

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: