چلو چاند پر چلتے ہیں

ایک صاحب ہیں پروفیسر اسٹیفن ہاکنگ ، وہ کافی عرصے سے ہمیں ڈرانےمیں لگے ہوئے ہیں ، مگر دنیا ہے کہ ڈرتی ہی نہیں ۔ ۔

پہلے تو انہوں نے “سیاہ سوراخ“ بلیک ہول کا شوشہ چھوڑا ، اور پھر اس پر خود ہی حیران ہو گئے ، پھر ایک کتاب لکھ ماری “وقت کی مختصر تاریخ “ ، مگر پھر بھی ہمیں جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو اب وہ ڈرانے دھمکانے پر اتر آئے ہیں ، کہ ہمیں اب دنیا سے باہر چلے جانا چاہیے ، یعنی چاند پر یا پھر مریخ پر ۔ ۔ ۔ لگتا ہے پروفیسر صاحب نے بھی وہ فلم دیکھ لی ہے “ہچ ہیکر گائیڈ ٹو گلیکسی“ اور شاید انہوں نے یہ فلم کسی نیوز چینل پر دیکھی ہے اسی لئے خود بھی پریشان ہوئے ہیں اور ہمیں بھی کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ اپنے تو راج کپور صاحب برسوں پہلے کہ گئے تھے کہ

اپنے یہ ہی دونوں جہاں (یعنی فلم اور بمبئی)
انکے سوا جانا کہاں (اور خود پرلوک سدھار گئے)

تو صاحب ، ہم اب سمجھ میں نہیں آتا کیا کریں ، پروفیسر صاحب کو تو کوئی نہ کوئی سمجھا ہی لے گا ، مگر ہمیں کون سمجھائے کہ بھائی ابھی کہاں ، آرماگیڈن کو روکنے کے لئے ابھی بروس ویلز ہے اور اگر کوئی ایلین ویلن آئے گا تو اپنے ول سمتھ کالے سوٹ اور چشمے کے ساتھ آ موجود ہونگے اور اگر وہ بھی کچھ نہ کر پائے تو بھائی ابھیشک جی اپنے “جادو“ کے ساتھ دنیا بچا لیں گے ۔ ۔ ۔

مگر پھر خیال آتا ہے کہ امریکیوں اور روسیوں اور چینیوں نے تو اپنے خلائی جہاز بنا لئے ہیں ، ہم کیا کریں گے ۔ ۔ ۔ کیسے چاند پر جائیں گے ۔ ۔ ویسے میرا اپنا خیال ہے کہ امریکی تو شاید چاند پر رہ نہ سکیں کیونکہ ۔ ۔۔ چاند پر نہ تو پانی ہے اور نہ ہوا ۔ ۔۔ صرف مٹی ہی مٹی ہے ۔ ۔ ۔ مغربی لوگ ان چیزوں کے عادی نہیں ۔ ۔ ۔ ہم تو برسوں پانی کا انتظار کرتے ہیں ، اور مٹی تو ہماری غذا ہے ، کھاتے ہیں تھوکتے ہیں اور پھر اسی مٹی میں نہا بھی لیتے ہیں ۔ ۔ ۔سو چاند کی فضا ہمارے لئے تو کافی سازگار ہے ۔ ۔ ۔ ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ ۔ ۔ ہو سکتا ہے امریکی تجربے کے لئے ہماری ہی قوم کے کسی “گنی پگ“ کو چاند پر بھیجیں ۔ ۔ ۔ ویسے بھی پچھلی دفعہ جب وہ چاند پر اترے تو اپنے خان صاحب کا چائے کا کھوکھا پہلے ہی ادھر موجود تھا ۔ ۔ ۔

مگر کیا کریں ۔ ۔ دل نہیں مانتا کہ یہ دنیا چھوڑ دیں ۔ ۔ یہاں پر تاج محل ہے ، پیسا کا ٹاور ہے اور مجسمہ آزادی ہے ، کبوتروں والا چوک ہے لندن میں اور تو اور اپنا مینار پاکستان ہے ۔ ۔ ۔ شاید کچھ جدیدیت سے باغی لوگ کہیں کہ ادھر کعبہ ہے کاشی ہے اور یروشلم ہے ۔ ۔ ۔ سب کچھ ہے مگر ۔ ۔ امن نہیں ہے ۔ ۔ مگر اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ۔ ۔ وہاں (چاند پہ یا مریخ پہ) امن ہی ہو گا ۔ ۔ بھئی دھشت گردوں کو کون لے کر جائے گا وہاں ۔ ۔ ۔ وہ ہی جو دھشت گردی کے خلاف جنگ کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔

شاید اس دنیا کو بھی کوئی بلیک ہول ہڑپ کرنا چاہتا ہے ۔۔ ۔ اسی لئے تو امید کی روشنی واپس نہیں آتی ۔ ۔ ۔۔ شاید اسٹیفن ہاکنگ کو اس سے بہتر الفاظ نہ مل سکے ہوں دھمکی دینے کے ۔۔ ۔ ۔ ۔ یا پھر شاید یہ خبر پرانی ہو چکی ہو ۔ ۔ ۔ ہم یہاں اکیلے ہی رہ جائیں ۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔ ۔ ۔ پتہ نہیں اپنے پنجابی کے یہ شعر کیوں یاد آ گئے ۔ ۔ ۔ ۔

رانجھے مجھیاں چرایاں ۔ ۔ ۔ ڈولی لے گے نی کھیڑے ۔ ۔
وے لگ گے نین اویڑے ۔ ۔ نی لگ گئے نین آویڑے ۔ ۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: