دعائیں وہ کب سنتا تھا

دعائیں وہ کب سنتا تھا
میرا خدا تو بہرا تھا
کب اسنے دیکھا میرا حال
شاید نہیں دیکھتا تھا
گناہ کرنے کی بھی اجازت نہ دی
نیکی کرنے سے بھی تو روکا تھا
بہت کچھ دیا اس نے مجھے ایسے
بس دے کہ یکدم چھینا تھا
کبھی ایسا بھی لگا ہے کہ وہ مرا ہے
مگر بعد میں لگا کہ دھوکا ہے
جھنگل سی اس دنیا میں انساں
انساں کے ہاتھوں مرتا ہے
وہ رب جسنے انساں بنایا تھا
کیا اب وہ رب کہیں سوتا ہے
انساں کے ہاتھوں میں اب خدا ہے
اور انساں ہی خدا بنا ہے
اے خدا تیرے بندے کدھر جائیں
تو ہی بتا ، کہ راستہ کونسا ہے
انساں کے ہاتھوں میں ہے اب اظہر
دل نہیں مانتا کہ انساں خدا ہے
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: