About Aaamir Khan Boxer

http://p.videofy.me/v/329701

His grand parents shifted to UK in 1970 , and he born there and since childhood he puts gloves in his hand , and then show his talent in boxing. Peoples watch him as another boxing champion after Mohammad Ali. He is famous in Pakistan as a hero who’s roots in Pakistan.
In this video some of his unique and exclusive pictures from his childhood to be a champion . . .we pray for his upcoming fight.

میرا ایک خواب ہے

میرا ایک خواب ہے ، یہ تاریخی الفاظ ایک بہت بڑے امریکی رہنما کے ہیں ، جس کا نام تھا مارٹن کنگ لوتھر ، وہ اگست کا ہی مہینہ تھا شاید اٹھائیس اگست ، ہزاروں لوگ جمع تھے ، لنکن میموریل پر ، وہ تحریک ایک عورت کو بس کی سیٹ سے نسلی بنیاد پر اٹھائے جانے سے شروع ہوئی تھی ، اور پھر ایک جم غفیر تھا جو اس تحریک میں شامل ہو گیا تھا اور مارٹن کنگ لوتھر نے اسے لیڈ کیا ، اور پھر لنکن میموریل پر کہا

I have a dream that one day this nation will rise up and live out the true meaning of its creed: “We hold these truths to be self-evident: that all men are created equal.”
ترجمہ؛ میرا ایک خواب ہے ، کہ ایک دن یہ قوم اٹھ کھڑی ہو گی اور اپنے اصل پہچان کے ساتھ زندہ رہے گی ، ہم ان سچائیوں کے مالک ہیں جو ظاہر ہیں ، اور سب برابر ہیں

اور پھر کہا

I have a dream that my four little children will one day live in a nation where they will not be judged by the color of their skin but by the content of their character.

ترجمعہ ؛ میرا ایک خواب ہے ، میرے چار بچے اس قوم کا حصہ بنیں گے ، جہاں رنگ و نسل سے انکی پچان نہیں ہوگی بلکہ انکے کردار انکی پہچان ہو گا

یہ خواب دیکھنے والے نے اپنے اس خواب کو پورا کر دیکھایا ، آج کا امریکہ دنیا کی نظر میں کچھ بھی ہو ، اس میں نسل پرستی ختم ہو چکی ہے ، یہ سچا رہنما تھا جب اسے کہا گیا کہ آپ ماؤنٹین ہل پر نہ جاؤ کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے ، تو اسنے کہا کہ میں چند نااقابت اندیش لوگوں کی وجہ سے میں اپنی قوم کو کیسے چھوڑ دوں ؟ اور پھر جب اسے قتل کر دیا گیا ، تو اس وقت تک وہ ایک عظیم رہنماء بن چکا تھا ۔ ۔ ۔

آج مارٹن کنگ لوتھر کا کیوں یاد آیا ، اس لیے کہ میرے ملک کے ایک صوبائی وزیر بھی خواب دیکھنے لگے ہیں ، مگر ان خوابوں کا تعلق کسی بھی طرح عوام سے نہیں ہے ، انہیں مخصوص خواب آتے ہیں ، اور خواب بھی سچے ، اور خواب آنے کے بعد امن ہونے کے بجائے ، لاشیں گرتیں ہیں ، مگر وہ اپنے “بِل“ سے نہیں نکلتے ، آج مجھے بہت کمی محسوس ہو رہی ہے ، میرے ملک میں کوئی مارٹن کنگ لوتھر نہیں ، جو کوئی خواب دیکھے سکے اور کہ سکے

“Free at last! free at last! thank God Almighty, we are free at last

اب اسکا کیا ترجمہ کروں ؟ یہ مارٹن کنگ لوتھر کی تاریخی تقریر کے آخری الفاظ ہیں ، انہوں نے کہا

اور ہم کہ سکیں کہ ، ہم آخرکار آزاد ہیں ، شکر ہے اللہ کا ، کہ ہم آزاد ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

میرا بھی خواب ہے ، کہ میں یہ کہ سکوں ۔ ۔ ۔ ۔۔ شکر ہے ہم آزاد ہیں ۔ ۔ ۔ اور میں اپنے وزیر کو بتا سکوں کہ خواب کیسے دیکھے جاتے ہیں ۔ اور خواب سچے ہوں یا نہ ہوں تعبیر خود سچی کرنی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔

الحمدوللہ میں مسلمان ہوں

میں ایک تاجر ہوں ، کاروبار بہت پھیلا ہوا ہے ، تین فیکٹریاں ہیں ، ایک شوگر مل ہے ، اور ان سب کے علاوہ میری ایک بروکر فرم بھی ہے ، جو میرے شئیر کے کاروبار کو دیکھتی ہے ، ملک سے باہر بھی مختلف بزنس ہیں میرے ، جن میں یورپ میں ایک سپر سٹور کی چین ہے ، ہاں فیملی ایک دو بیٹے ہیں ایک بیٹی ہے ، دو بیویاں بھی ہیں ، سب کچھ ہے مگر چین نہیں ہیں ، اتنا بزنس ہونے کے باوجود گذارا مشکل سے ہی ہوتا ہے ، کبھی یہ مسلہ کبھی وہ مسلہ ، سارا دن رات بزنس میں گذر جاتا ہے ، پیسہ کمانا آسان نہیں ہے جناب ، ہاں جی لوگ بھی کام چور ہو گئے ہیں ، اب دیکھیں میری فیکٹریوں میں کوئی دو ہزار افراد کام کرتے ہیں ، جنکو اچھی خاصی تنخواہ دیتا ہوں ، مگر انکا پیٹ ہی نہیں بھرتا ، ہر دوسرے دن مہنگائی کا رونا روتے ہیں ، ارے بھائی مہنگائی ہر ایک کے لیے ہے ، اب دیکھیں نا میں ہر سال نئے ماڈل کی کار بدلتا ہوں ، مگر اس سال بہت مشکل ہو گئی ہے ، ہماری حکومت کو تو بس جتنا دو اتنا ہی کم ہے ، میری نئے ماڈل کی کار پورٹ پر کلیرنس کی منتظر ہے ، اوپر سے بیٹی کی فرمائش ہے کہ اسے اپنی گریجویشن کی تقریب میں نئی سپورٹ کار میں جانا ہے، اب مہنگائی ہمارے لیے بھی ہے سوچنا پڑتا ہے ، مگر یہ کیا یہ چھوٹے لوگوں کے پیٹ ہی نہیں بھرتے ، میں اس دن ایسے فیکٹری کا چکر لگانے چلا گیا ، وہاں لنچ بریک تھا ، مزدور ایسے کھانے پر ٹوٹے تھے کہ کیا کہوں ، اور ایک مزدور اتنا کھانا کھا رہا تھا جتنا میں ہفتے میں بھی نہ کھا سکوں ، کھانے پر یاد آیا ، ڈاکٹر بھی عجیب ہوتے ہیں ، اب مجھے شوگر ہے تو ہر چیز سے احتیاط ، اوپر سے صرف چار کلو ہی وزن بڑھا تھا ، بیگم نے ورزش پر لگا دیا ، وہ تو اچھا ہے ڈآکٹر نے سخت ورزش سے منہ کیا ہے کہ ہارٹ پرابلم بھی ہے نا تھوڑا سا ، کچھ گردوں کا درد بھی ہو جاتا ہے ، اسلیے تو بھئی میں تو بہت احتیاط سے کھاتا ہوں ، مگر یہ مزدور ۔ ۔ ۔ تبھی تو انکو ہر بیماری لگتی ہے ، اور پچھلے دنوں کیا ہوا ، ہمارے سینئر اکاؤنٹنٹ کا انتقال ہو گیا ، سوچا کہ یہ متوسط طبقے کا بندہ تھا تو اسکے گھر چلا گیا ، اف اللہ ، کیا بتاؤں ، میری گاڑی کا تو کباڑا ہو گیا ، اتنی دھول ، مجھے تو ویسے بھی ڈسٹ الرجی ہے ، پھر اسکے بچوں سے ملا وہ بھی عجیب تھے ، نہ رو رہے تھے نہ ہنس رہے تھے ، میں نے اسکے گھر والوں کو دو لاکھ کا چیک دیا ، بھئی وہ ہمارے ساتھ اس وقت سے تھا جب میرے پاس صرف ایک سپر سٹور تھا ، جو میں نے اپنے والد کی جائداد بیچ کر بنایا تھا ، یہ جائداد کا چکر بھی عجیب ہوتا ہے ، بھئی میں بیچ سکتا تھا بیچ دیا ، میرا چھوٹا بھائی ناراض ہو گیا تھا ، اب تک ناراض ہے ، ویسے اگر میں اس وقت اسے اسکا اور دوسرے بھائی کا حصہ دے دیتا پھر تو یہ میری انڈسٹری کیسے بنتی ؟ آج میرا ٹرن اور ماہانہ دو بلین سے بھی اوپر ہے ، یہ سب میری محنت کا نتیجہ ہے ، ورنہ اگر میں بھی یہ سوچنے بیٹھتا کہ بھائی ناراض ہے ، یا بہن یا ماں ناراض ہے تو اتنی عزت اور دولت کیسے کماتا ؟ بس جی اس دنیا میں آگے بڑھنے کا ایک ہی طریقہ ہے وہ ہے آگے والے کو گرا کہ اس پر چھڑھ کہ آگے بڑھ جاؤ ، ورنہ کوئی تمہیں گرا کہ آگے چلا جائے گا ، اور یہ سلسلہ کبھی رکتا نہیں ہے ، بزنس کو بڑھانے کے سب سے ضروری چیز ہے ٹیکٹس ، کچھ لوگ اسے دھوکا دہی یا جھوٹ بھی کہتے ہیں ، مگر بھئی اگر دھوکا نہیں دو گے تو دھوکا کھا جاؤ گے ، اور اگر سچ پر چلے تو سب سے زیادہ مار کھاؤ گے ، اب مثال لے لیں نا ، اگر میں ٹیکس میں اپنے سارے اثاثے شو کر دوں تو پھر مجھے کتنا زیادہ ٹیکس دینا ہو گا ؟ بھئی یہ سب کرنا پڑتا ہے بزنس ہے نا ، اب میں نے اپنا بہت سارا پیسہ فکسڈ انکم میں لگا دیا ہے ، اب ہر مہینے اتنا سود اس پر مل جاتا ہے کہ میں اگر کچھ بھی نہ کروں تو موجودہ اسٹیٹس کو برقرار رکھ سکتا ہوں ،اب لوگ کہتے ہیں کہ سود برا ہے ، ارے بابا پیسہ آنا برا نہیں ہوتا جانا برا ہوتا ہے ، مجھے سب سے زیادہ ڈر ہی اسی چیز کا ہے کہ اگر کبھی یہ پیسہ (میرے منہ میں خاک) میرے پاس نہ رہا تو میں کیا کروں گا ، بس یہ دھڑکا لگا رہتا ہے ، اسی لیے میں نے اپنا معمول بنا رکھا ہے ، کہ اپنی فیکٹریوں سے ہر سال پچاس لوگوں کو حج کرواتا ہوں ، ویسے تو میرا اور میری فیملی کا بھی اصول ہے کہ رمضان کا آخری عشرہ حجاز میں ہی گذارا جائے ، اسکے لیے میں ہر سال بیس سے پیچس دن کی چھٹی کرتا ہوں بزنس سے ، رمضان کا آخری ہفتہ ہم لوگ عمرہ وغیرہ کرتے ہیں ، میں اور بیگم آخری تین چار روزے بھی رکھ لیتے ہیں ، عید کے دن واپس آتے ہیں وطن ، اور پھر کم سے کم دو ہفتے کے یورپ ٹور پر جاتے ہیں ، مجھے تو میلان بہت پسند ہے ، ویگاس اور ٹیکساس کے کسینو کی راتیں بہت دلکش ہوتیں ہیں ، بہت انجوائے ہوتا ہے ، دن بھر گھومتے ہیں اور رات کو جھومتے ہیں ، ہاں میری بیگم کو میامی بیچ بہت پسند ہے ، وہاں اسے آزادی محسوس ہوتی ہے ، ظاہر ہے وہ اپنے وطن کی بیچ پر مختصر لباس نہیں پہن سکتی ، پتہ نہیں ہمارے لوگ کب اس دقیانوسی ملا کریسی سے نکلیں گے ، بند ذھن کے بند لوگ ، اسی لیے میری بیٹی یہاں ایڈجسٹ نہیں کر پا رہی ، میں نے اسکے لیے لندن میں ایک پینٹ ہاؤس لیا ہے ، اسکی شادی کا سرپرائز گفٹ ، مگر وہ سیریز ہی نہیں ہوتی ، کبھی ایک کے ساتھ ہینگ آؤٹ کبھی دوسرے کے ساتھ ، خیر یہ نوجوانوں کے مزہ کرنے کی عمر ہے ، شادی تو ہو ہی جائے گی ، ہاں چھوٹا بیٹا بہت نالائق ہے ، میں نے اسے امریکہ پڑھنے کے لیے بھیجا اسنے وہاں شادی کر لی ، وہ بھی ایک دوسرے لڑکے سے ، کہتا ہے کہ اسے اب پتا چلا ہے کہ وہ گے ہے ، اپنے وطن میں تو اسے اچھا نہیں سمجھا جاتا ، مگر مغرب میں تو اب یہ عام بات ہے ، بڑے بیٹے نے اپنا ہی دھندا شروع کر رکھا ہے ، پارٹی بوائے ہے ، مگر پیتا کچھ زیادہ ہے ، بالکل اپنی ماں پر گیا ہے ، وہ تو اب اتنی عادی ہے کہ رات کو پیے بنا اسے نیند ہی نہیں آتی ۔ اور اسکی بھی پارٹیاں ختم نہیں ہوتیں ، مگر اچھا ہے اسکی پارٹیوں سے مجھے اچھی کمپنی ملتی ہے ، آج کل کی خواتین تو بہت ہی ایڈوانس ہیں ، ڈسپوزیبل ریلیشن پسند کرتیں ہیں ، بھئی یہ سب کچھ ہماری پہچان ہے ، جب اوپر والے نے دیا ہے تو پھر انجوائے کیوں نہ کریں ، ہاں بھولنا نہیں چاہیے اسے ، میں بھی نہیں بھولتا ، ہر ہفتے دو سے تین غریبوں کو دس بیس ہزار بانٹ دیتا ہوں ، بھی اللہ کو بھی تو خوش رکھنا ہے ، اور پھر رمضان کے روزوں کا صدقہ دے دیتا ہوں ، اور ڈبل ٹرپل کر کہ دیتا ہوں ، مجھے پتہ ہے کہ کل اسکو بھی منہ دیکھانا ہے ، آخر میں مسلمان ہوں ، الحمدوللہ

نیا افسانہ

پتہ نہیں میری محبت اتنی سچی کیوں نہیں تھی کہ اسے منوں مٹی کے نیچے جانے سے نہ روک سکی ، میں نے اسکی قبر پر پانی چھڑکتے ہوئے دانستہ طور پر اسکی قبر کی مٹی ہاتھوں سے صاف کر دی ، اور ایک الوداعی نظر مٹی کے اس ڈھیر پر ڈالی ، جو تازہ پھولوں میں ڈھک چکا تھا ، ایسا لگا کہ جیسے یہ پھول مٹی کے جیسے ہی ہوں ، ہم انسان بھی عجیب ہوتے ہیں ، ہماری زندگی بھی پھولوں جیسی ہی ہوتی ہے ، کھلتے ہیں اور پھر خوشبو بکھرا کر مٹی میں مل جاتے ہیں ، انسان کی زندگی پھول کی زندگی سے کہاں مختلف ہے ، میں جانے کے مڑا تو ایسا لگا جیسے اس نے آواز دی ہو ، رکو ۔ ۔۔ ۔۔ میں ٹہر گیا ، میں مڑ کر پھر مٹی کے ڈھیر کو دیکھا ، اور اسی طرح قبرستان سے باہر نکل آیا جیسے ایک دن اسنے میرے “رکو“ کہنے پر ایسے ہی مجھے اس دنیا کے قبرستان میں اکیلا چھوڑ دیا تھا ۔۔ ۔ ۔ ۔ کیا یہ انتقام تھا ؟
ہماری ملاقات کوئی اتفاق نہیں تھا ، اس نے میری کہانیاں پڑھیں تھیں ، اور پھر اسنے مجھے خط لکھے ، عجب بات تھی ، اسکی تعریف بھی تنقید لگتی تھی اور تنقید بھی تعریف ، میرے افسانے میں جب میں نے اپنے ایک کردار کو خود کُشی کرا دی تھی تو اسنے مجھے بہت سنائی تھیں ، کردار میرا تھا منظر کشی اسنے کر دی تھی ، کہانی کے اتنے رخ بتائے کہ میں خود بھی سوچنے لگا کہ میں اپنے کردار کو مار کہ واقعٰی ہی کوئی جرم کیا ہے ، پھر ایک دفعہ اس نے مجھے دفتر میں آ لیا ، اور میں نے اسے پہچان لیا ، ہم بہت دیر خاموش بیٹھے رہے ، اور پھر اسی نے خاموشی توڑی ، لکھنے والے لگتے نہیں آپ ، میں ہنس دیا ، اور پھر میری کہانیوں میں تبدیلی آتی چلی گئی ، میری ہر کہانی کا انجام اسکی مرضی سے ہوتا ، اور کتنی ہی کہانیوں کا آغاز بھی اسی کی وجہ سے ہوتا ، پھر جب میرا پہلا ناول “آگ کا ستون“ چھپا تو مجھ سے زیادہ خوشی اسے ہوئی ، اور جب اس ناول کو بیسٹ سیلر ایوارڈ ملا تو اسنے میرے آفس کو پھولوں سے بھر دیا ، عجب انداز تھا اسکا ، ایسا لگتا تھا کہ وہ اس گیت کی تصویر ہو “اب تو تم سے ہر خوشی اپنی ، تم پے مرنا ہے زندگی اپنی “ اور پھر ایک دن اسنے کہا ، جدائی آ پہنچی ، اور میں بُت بن گیا ، اسے جاتے دیکھتا رہا ، بس منہ سے نکلا “رکو“ مگر ۔ ۔ ۔ ۔ اسنے میری زندگی قبرستان کر دی ۔ ۔۔ ۔ ۔ کہانیاں بدل گئیں ، بے انجام کہانیاں ، آغاز تو ہوتا مگر انجام نہیں ۔ ۔۔ ۔ تھا ، میں ان بے انجام کہانیوں میں دفن ہو گیا تھا
مگر ایک دن اسکا فون آیا ، میرے جنازے کو کاندھا ضرور دینا ، کل چار بجے شارپ ۔ ۔۔ ۔ ۔ اسنے فون رکھ دیا ، ہر کہانی کی طرح اسے اپنی کہانی کا انجام بھی پتا تھا ، میں چار بجے جب اسکے گھر پہنچا تو جنازہ نکل رہا تھا ، میں نے آگے بڑھ کہ سرہانے والی سائیڈ سنبھال لی ، ہوا چل رہی تھی ، آیتوں بھری چادر اڑتی تو ایک سفید کپڑے کی جھلک نظر آتی ، پتہ نہیں مجھے لگا کہ اس سفید کپڑے میں سے میری کہانیوں کا انجام نکل رہا ہو، جنازہ میت گاڑی میں رکھ دیا گیا ، میں اسکے سامنے والی جگہ بیٹھ گیا ، کون ہے اس سفید کپڑے میں لپٹا ، میں سوچتا رہا ، مگر میں جان گیا تھا ، کہ یہ وہ ہی ہے جسنے میری ہر کہانی کو اپنی کہانی بنا ڈالا ، آج اپنے انجام میں مجھے بھی شامل کر لیا ، میرا دل کر رہا تھا یہ سفید پردہ گرا دوں اور پوچھوں کہ میں نے تمہارا کیا بگاڑا تھا کہ تم نے مجھے رونے بھی نہیں دیا ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔۔
اور پھر اسے منوں مٹی تلے دفنا دیا گیا ، میں دفتر پہنچا تو کورئیر والا منتظر تھا ، ایک بڑا لفافہ دیا ، اس کی طرف سے تھا ، اس کی اپنی کہانی تھی ، جس کا کردار میں تھا ، مگر انجام ۔ ۔ ۔ ۔ اسنے دو صفحے خالی بھیجھے تھے ۔ ۔ ۔۔ ۔ یعنی انجام باقی تھا ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے وہ خالی صفحے پھاڑ کہ ڈسٹ بن میں ڈالے ، اور اپنا نیا افسانہ لکھنا شروع کیا
پتہ نہیں میری محبت اتنی سچی کیوں نہیں تھی ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔

پاکستان یا مسجد ضرار

کہنے کو ایک معمولی سا سوال ہے مگر اسکا جواب ہی ہمارے مستقبل کی بنیاد ہے ، آج ساٹھ سالوں کے بعد ہمیں یاد آئی ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا کہ نہیں ؟ ہم روز اخبارات اور دیگر میڈیا میں یہ بحث زور و شور سے دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کا اسلام سے کوئی تعلق ہے کہ نہیں ، ہمارے ہاں یہ تقسیم واضح نظر آ رہی ہے ، ایک طبقہ جو صرف مذہبی ریاست کی بات کرتا ہے ، اور دوسرا طبقہ خلافت راشدہ سے کم پر راضی نہیں ، ایک طبقہ مذہب کو ذاتی فعل قرار دے کر اسے عملی زندگی سے الگ کرتا ہے ، تو ایک اور طبقہ مذہب کو ہی ہر فساد کی جڑ سمجھتا ہے ۔ ترقی کا سرچشمہ سیکولرازم کو قرار دیا جاتا ہے ، مگر دوسری طرف نہ تو پوری طرح سیکولرازم کو قبول کیا جاتا ہے اور نہ ہی چھوڑا جاتا ہے

پاکستان کے بانی پاکستان کو کیسا دیکھنا چاہتے تھے ؟ یہ سوال بار بار پوچھا جاتا ہے ، اور اسپر تبصرے کیے جاتے ہیں اور پھر ان تبصروں پر تبرے بھی بھیجھے جاتے ہیں ، کچھ بڑے دانشور قائد اعظم کو سیکولر مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ کبھی بھی مذہبی نہیں رہے ، بلکہ انکا رہن سہن اور حتہ کہ کھانا پینا تک مغربی طرز کا تھا ، بلکہ انہیں عطا ترک ثانی تک بنا ڈالا ، مگر بھول گئے کہ اتا ترک نے مسجدوں میں تالے لگوائے تھے اور اذان پر پابندی لگا دی تھی ہر طور سے مغربی نظر آنے کی کوشش کی تھی مگر آج تک مغرب ترکی کو اپنا نہیں سکا اور اب ترکی واپس اپنی مذہبی پہچان کی طرف جا رہا ہے ، مگر ہم ان سے کیوں سیکھیں ، ہم نے تو مغربی بننا ہے

ہمارا معاشرہ بھی عجیب تضاد کا شکار ہے ، ایک طرف ہم نے نماز کو عادت بنا لیا ہے اور دوسری طرف مغرب کی نقالی میں ہم مغرب کو بھی مات کر رہے ہیں ، ہمارے نوجوان اتنے زیادہ مغربی ہو چکے ہیں کہ اگر وہ آدم کا پسر ہے تو ممنوعہ پھل کھانے کے لیے بے چین ہے ، اور اگر حوا کی دختر ہے تو سانپ کا زہر چوس رہی ہے ، اور اب تو باغ عدن بھی کسی اکھاڑے کا منظر پیش کر رہا ہے ، جہاں ممنوعہ پھل ایسے بانٹا جا رہا ہے جیسے کسی مندر میں پرشاد بانٹا جاتا ہے ، اور ظاہر ہے ممنوعہ پھل کھانے کے بعد سب کے سب ننگے ہو چکے ہیں مگر کوئی بھی اب ستر پوشی نہیں چاہتا ، کہ یہ ملک نیوڈ بیچ ہے ۔ ۔ ۔ جس میں ننگا ہونا عزت و تکریم کی علامت ہے

بات ننگے پن کی ہو رہی ہے ، آپ تو جانتے ہیں کہ عیسائیوں کے ہاں معصوم فرشتے ننگے ہی ہوتے ہیں ، ہمارے ملک کے یہ دو فیصد فرشتے جن کے لیے یہ ملک باغ عدن سے کم نہیں ، اور یہ بات بھی ہے کہ انہیں عدن سے نکالا نہیں جاتا بلکہ یہ خود وقت آنے پر عدن سے بھاگ نکلتے ہیں ، اور دوزخی لوگوں میں جا کہ جنت کے مزے لیتے ہیں ، جب تک دوبارہ عدن کے حالات انکے لیے سازگار نہیں ہو جاتے ۔

اس لیے اب عدن میں اگر اسلام آ جائے تو ننگے فرشتے کیا کریں گے ؟ ویسے میں بھی اب سوچ رہا ہوں کہ ہمیں اسلام نے کیا دیا ہے ، سب ترقی کے راستے بند ، فرقے بندیوں اور بنیاد پرستیوں نے معاشرے کو ناسور بنا دیا ہے ، کیا یہ اسلام ہے ؟ جو صرف خود کش بمبار پیدا کرتا ہے ؟ کیا یہ اسلام ہے جو ترقی کو روکتا ہے ؟ کیا یہ اسلام ہے جو نہ خوش ہونے دیتا ہے اور نہ اداس ۔ ۔۔ ۔

عجب مخمصے میں جان پھنسی ہے ، جسے دیکھو وہ حسین (رض) کا پیروکار بنتا ہے ، مگر کربلا میں پانی سب سے پہلے خود بند کرتا ہے ، خود کو یزدییت کا دشمن گردانتا ہے ، اور یزید کی طرح چاہتا ہے کہ ہر کوئی اسکی بیت بھی کرے ، عجب لوگ ہیں یہ ، خیمے بھی جلاتے ہیں ، اور حلیم بھی پکاتے ہیں ، یہ جو چوں چوں کا مربع بنی ہے قوم ہماری ، اور دن بدن ہم جس دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں ، اسکا علاج اسلام بھی نہیں کر سکے گا ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ کیونکہ ہم سلامتی تو چاہتے ہیں مگر صرف اپنی ذات کی ۔ ۔ ۔ اور قوم جب ہجوم بن جاتی ہے تو اسکا حال اس ریوڑ جیسا ہو جاتا ہے جسپر درندے بار بار جھپٹ کر اسے ختم کر دیتے ہیں ۔ ۔ ۔۔

لہذا اب پاکستان کو ہرگز اسلامی مملکت نہ سمجھا جائے ، ہم منافقین کا ٹولہ ہیں ، اور ہماری پوری کوشش ہے کہ یہ مسجد زرار بن جائے ۔ ۔۔ ۔ ۔ تا کہ اسے سچے مسلمان آ کر گرا دیں یا پھر اس کا وہ ہی حشر کریں جو مسجد قرطبہ کا عیسائیوں نے کیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔۔ اور ہمارے لیے بھی کہیں حکم نہ آ جائے “بے شک یہ ہی لوگ جھوٹے ہیں“

میرے مجاہدو ، میرے محافظو ، میرے جوانوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا فخر مت توڑو ۔ ۔ ۔ ۔۔

نوٹ ؛ یہ کالم پاکستانی فوج کے خلاف نہیں ، بلکہ ان جنرلوں کے خلاف ہے جو اس ملک کو نوچ رہے ہیں ، اور اپنی جیبیں بھر رہے ہیں ، ورنہ میری فوج کے جوان تو ایسے ہیں کہ پینسٹھ کی جنگ کے انڈین جنرل کہتے تھے کہ یہ جب نعرہ تکبیر لگاتے ہیں ، تو ہمارے آدھے سے زیادہ سپاہی سہم جاتے ہیں ، ہماری فوج کے نان کمیشن افسران کو آج بھی دنیا کا بہترین ٹرینر مانا جاتا ہے ، ایک صوبیدار جب ایک لفٹین بناتا ہے تو اسے وہ تربیت دیتا ہے جو اسے پاک آرمی کا مین ایٹ بیسٹ بنا دیتا ہے ، اور اسے پھر صاب کہ کہ سلوٹ مارتا ہے ، مگر افسوس وہ ہی لیفٹین جب جنرل بنتا ہے ، تو اپنے کتنے ہی استادوں کی کیتی کرائی پر مٹی پھیر دیتا ہے ۔ ۔ ۔ بلڈی سویلین ، کا نعرہ ہے وہ ہی جنرل لگاتا ہے ، جو سویلین کی حفاظت کے قابل نہیں ہوتا ، ورنہ فوج سے زیادہ ڈسیپلن ادارہ کوئی نہیں ، اور ان سے زیادہ محب وطن بھی کوئی نہیں ۔۔
——————————————————————————————————————————-

بہت پہلے کی بات ہے ، شاید بیس سال پہلے کی ، پاکستان میں ایک فلم بنی تھی ، جسکا نام تھا برداشت ، اظہار قاضی نے اس میں مرکزی کردار ادا کیا تھا ، یہ وہ زمانہ تھا جب ہماری فلم انڈسٹری میں کچھ کرییٹیو مائنڈ تھے ، فلم کا مرکزی کردار ایک فوجی تھا ، جو سرحد سے لڑ کر واپس گھر آتا ہے ، اور پھر اسے گھر پر سیاست دانوں اور مذہبی شدت پسندوں سے واسطہ پڑتا ہے ، اور وہ ہر ممکن طریقے سے ان سے براہ راست تصادم سے بچتا ہے ، مگر آخر کار اسکی برداشت ختم ہو جاتی ہے ، اور وہ ہتھیار اٹھا لیتا ہے اور کہتا ہے ، کہ میں تو فوجی تھا ، میرا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے ، مگر مجھے کیا پتہ تھا کہ میرے دشمن میرے ہی گھر میں ہیں اور مجھے جنگ بھی وطن کے اندر لڑنا ہو گی اور اپنوں سے لڑنا ہو گی ، فوجی یہ نہیں کرتا وہ اپنوں سے نہیں دشمنوں سے لڑتا ہے ۔ ۔۔ ۔

یہ کہانی تھی ایک سپاہی کی جو جانتا تھا کہ فوجی ہونے کا مطلب کیا ہوتا ہے اور اسکا فرض کیا ہوتا ہے ، مگر آئیے ایک اور کہانی بھی سنیے جو کسی فلم کی نہیں بلکہ ملک خداداد پاکستان کے ایک جنرل کی ہے ، نام تھا اسکا یحیٰی خان ، جسے جنرل آغا بھی کہا جاتا ہے ، جب ملک ٹوٹ گیا ، اور اس شرابی کبابی جنرل کو اتار دیا گیا تو ایک دن جب وہ پوچھنے لگا کہ یہ لوگ مجھے کیوں برا کہتے ہیں میں اناں دی کھوتی نوں ہتھ لایا اے ؟

ذرا دیر کو میں اپنی فوج کے کارناموں کو سوچنے بیٹھا تو پہلی جنگ 1947 کی نظر آئی جہاں کشمیر کے محاذ پر افسر اور جوان ملکر لڑے اور نوزائدہ مملکت کو کشمیر دیا اور آنے والے وقت کے سیاست دانوں اور جنرلوں کے لیے انکی نوکریاں پکی کرنے کا تحفہ دیا ، ابھی ملک اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوا تھا کہ جنرل اسکندر مرزا نے اس پر قبضہ کر لیا ، اور پھر تو جیسے ان بھیڑیوں کو لہو لگ گیا ، ایک آتا رہا ایک جاتا رہا ، کسی کو کتا بنا کر اتارا گیا (جنرل ایوب) کسی کو اللہ نے فضا میں ہی اڑا دیا (جنرل ضیاع) اور ایک تو ابھی زندہ ہے اور بھڑک مار رہا ہے کہ میں اک دن لوٹ کہ آؤں گا ۔ ۔۔ ۔ ۔

میرے ملک میں عوام کبھی بھی آزاد نہیں رہے ، اور ہمیشہ ہی انہیں روندتے رہے بوٹ ، کبھی یہ بوٹ فوجی ہوتے اور کبھی پولیس کے اور جب ان سب سے بچ گئے تو انہیں فوجیوں کے طفیلیے سیاست دان مسلتے رہے ، یہ سیاست دان بھی عجیب قوم ہے ہمارے ملک کی ، فوجی ڈکٹیٹر کو ڈیڈی کہتے ہیں ، ملک تڑواتے ہیں ، اور پھر خود مارشل لاء ایڈمینسٹریٹر بن جاتے ہیں ، یہ ایسے لوہے کے لوگ ہیں جو ان فوجی آمروں کے مقناطیس سے ایسے چپکتے ہیں کہ ، لوہار کی دوکان رائے ونڈ کا محل بن جاتی ہے ، اور پھر ایسے اسلام پسند کہ اسلامی اور جمہوری اور اتحاد بھی کر کہ اپنا قبلہ واشنگٹن شریف کو بنا کر ایسے سجدہ ریز ہوتے ہیں کہ کوئی ڈرون حملہ یا خود کش بھی اتنی ڈائریکٹ جنت نہیں پا سکتا جتنی یہ اسلامی سیاہ ست دان پاتے ہیں جنکی دنیا بھی جنت اور آخرت تو ہے ہی کہ ان سے بڑا مسلمان کوئی ہو ہی نہیں سکتا

یہ فوج بھی عجیب ادارہ ہے ہمارا ، انکا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا مگر یہ سیاست کرتے ہیں ، کہا جاتا ہے یہ حکم کے غلام ہوتے ہیں ، مگر ہمارے فوجی حکمران ہوتے ہیں ، کہا جاتا ہے ، یہ وطن کے حفاظت کرتے ہیں ، مگر ہمارے وطن کو بیچ کھاتے ہیں ، کہا جاتا ہے یہ موسٹ ڈسلپلن ہوتے ہیں مگر ہمارے تو اب موسٹ ڈسٹارشن کا شکار ہیں ، فوج عوام کی حفاظت کرتی ہے ، مگر ہماری فوج ہم پر حکمرانی کرتی ہے ، سیاست دانوں کے لیے ہم کیڑے مکوڑے اور فوجیوں کے لیے “بلڈی سویلین“

میرے فوجی جواں ہمتوں کی داستاں ، سپاہی لانس نائیک محفوظ شہید سے لیکر حوالدار لالک جان تک ، یہ سب میری قوم کا فخر ہیں ، مگر کیا میں انگلیوں پر گنے ہوئے چند افسران کے جو زیادہ سے زیادہ میجر لیول سے اوپر کے نہیں تھے انہوں نے اپنے سینے تان دیے دشمن کی توپوں کے سامنے

مگر افسوس ان میں کوئی جنرل نہ تھا ، کہ سہل پسند جنرلوں کو سیاست سے فرصت ملتی تو اپنے گھر کی سرحدوں پر لگنے والی آگ دیکھ سکتے ، میں دعویٰ کرتا ہوں کہ آپ کسی بھی جنرل برگیڈیر یا کرنل لیول تک کے افسروں کے گھر دیکھیں اور انکے خاندان کا رہن سہن ، کسی بھی لاڑڈز یا امیر سے کم نہیں ، یہ رئٹائیر ہوتے ہیں تو لاکھوں کے ساتھ کروڑوں کے جائداد بھی سمیٹ لیتے ہیں ، جو انہیں وطن بیچینے کا انعام لگتا ہے ، اور پھر سب گھر والے مل جاتے ہیں ، اگر گھر کا ایک بندہ کمیشن افسر بنا تو پھر سارے گھر والوں کے وارے نیارے ، میں پنڈی کے ایک ایسے برگیڈئیر کے بارے میں جانتا ہوں جو آرمی کی تعمیرات کے انچارج ہیں اور ان سے ملنے کی قیمت کم سے کم دس ہزار ہے ، جی ہاں صرف ملنے کی قیمت اور وہ اپنے خاندان کے لیے نئے ماڈل سے کم کی کار سے زیادہ راضی نہیں ہوتے ، ایک سائین کرنے کے لیے ، کیونکہ بلڈی سویلین بھی تو ایسے ہی ہیں حرام کا پیسہ حرام میں ہی تو جاتا ہے نا

میں نے اپنی فوج کے افسران کی محافل میں شراب کباب اور شباب کو مچلتے دیکھا ہے ، نشے میں دھت یہ جنرل جب اپنی اپنی میسوں میں ناچتے ہیں اور اپنی ہی قوم کو گالیاں دیتے ہیں تو کیا کہوں کیا کیا دل کرتا ہے کہنے کو ، میں نے بہت عرصہ پہلے لکھا تھا اس پر ، ایک بہت ہی پرانی کہاوت ہے ہماری افواج کے بارے میں بلکہ ایک انڈین جنرل نے یہ کہا تھا کہ ، اگر میرے پاس پاکستانی سپاہی ہوں اور انڈین افسر تو میں ساری دنیا پر حکمرانی کر سکتا ہوں

پاکستان کی قسمت ہی عجیب ہے ، اس کی فوج کے افسر ہمیشہ سے ہی پاکستان کو نقصان پہنچاتے آئے ہیں ، جنرل گریسی سے لیکر جنرل کیانی تک سب ہی قوم کے خرچے پر چرچے کرتے رہے اور حرام کھاتے رہے ، آج ایسے ہی رنگیلے افسروں کے لیے دل سے نکلے الفاظ ۔ ۔ ۔۔

اے وطن کے رنگیلے جوانوں ، میرے پیسے تمہارے لئے ہیں

سرفروشی تھا ایماں تمہارا ، جراءتوں کے پرستار تھے تم
جو حفاظت کرے سرحدوں کی ، وہ فلک بوس دیوار تھے تم

اے لالچ کے زندہ نشانوں ، میرے جیسے تمہارے لئے ہیں

بیویوں ماؤں بہنوں کی نظریں ، تم کو دیکھیں تو یوں تڑپ جائیں
جیسے خاموشیوں کی زباں سے ، دے رہیں ہوں وہ تم کو صدائیں

قوم کے اے جری پہلوانوں ، کیا یہ بچے مرنے کے لئے ہیں؟

تم پے جو کچھ لکھا شاعروں نے ، اس میں شامل تھی آواز میری
اڑ کہ پہنچے ہو تم جس افق پر ، کیسے جائے گی پرواز میری

ڈالروں کے اے رازدانوں ، میرے پیسے تمہارے لیے ہیں

اب تم اپنی حفاظت نہیں کر پائے ، سرحدوں کی نہیں کر پائے ، تو ہماری حفاظت کیا کرو گے ؟؟؟؟

میرے سیاہ ست دانوں اور جنرلوں ،خدا کے لئے اب ہماری جان چھوڑ دو ، اور یہ ملک اس کے خیر خواہوں کے حوالے کر دو ۔ ۔ ۔ ایسا نہ ہو کہ اب یہ حملے عوام کریں ۔ ۔ ۔ ۔ تمہاری بیرکوں پر اور تمہارے محلوں پر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔

(اس کالم کو لکھ کر میری آنکھیں نہ جانے کیوں بھیگ گئیں ، اور دل یہ ہی دعا نکلی )

چاند روشن چمکتا ستارہ رہے
سب سے اونچا یہ جھنڈا ہمارا رہے

اس جھنڈے سے اب قوم کی لاج ہے
اس جھنڈے پے اب قوم کا آج ہے
جان سے کیوں نہ ہم کو یہ پیارا رہے

اور پھر یہ بھی آواز دل سے ابھری

جاں جاتی ہے بے شک جائے
پرچم نہ تیرا جھکنے پائے
غازی کو موت سے کیا ڈر ہے
جاں دینا جہاد اکبر ہے

قرآں نے ہے یہ بتلایا
اے مرد مجاہد جاگ ذرا ، اب وقت شہادت ہے آیا
اللہ ُ اکبر ، اللہ ُ اکبر

اور ابھی تک میری آنکھوں کے سامنے ایس ایس جی کے کمانڈو جوشیلے انداز میں اللہ ہو کا نعرہ لگاتے گزر رہے ہیں ۔۔ ۔۔ اور میں بھیگی آنکھوں سے ان سبکو کہ رہا ہوں

میرے مجاہدو ، میرے محافظو ، میرے جوانوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا فخر مت توڑو ۔ ۔ ۔ ۔۔ تم میرا فخر ہو ۔ ۔ ۔ ۔

ہم امریکہ کا نہیں کھاتے

ایک سوال اور جواب بار بار دیا جاتا ہے کہ ہم امریکہ کا دیا ہوا کھاتے ہیں تو اسکی مرضی ہے وہ ہم سے جو مرضی ہے سلوک کرے ، اس ضمن میں عرض یہ ہے کہ ہم امریکہ کا نہیں کھاتے ، یاد رہے یہاں ہم سے مراد عوام ہے ، امریکہ اگر کچھ دیتا ہے اور لیتا ہے وہ صرف حکمرانوں سے اسکی ڈیل ہے ، عوام کو امریکہ سے ایک پیسہ نہیں ملتا ، امریکہ سے جو بھی پیسہ آتا ہے وہ صرف دو فیصد کے پاس جاتا ہے اور نہ صرف وہ پیسہ جو باہر سے آتا وہ ہمارے حکمران اور دو فیصد طبقہ کھاتا ہے بلکہ جو پیسہ ہم ٹیکس کی شکل میں دیتے ہیں وہ بھی حکمرانوں کی جیبوں میں ہی جاتا ہے اور اسکا ایک فیصد بھی عوام کو نہیں ملتا اور نہ ہی لگتا ۔

میں امریکہ جو دیتا ہے اسکی بات نہیں کرتا کیونکہ وہ تو سب کو پتہ ہے ، مگر میرا تجزیہ تو دیکھیں کہ کتنا پیسہ آتا ہے اور یہ جاتا کہاں ہے ، میرے محلے میں ایک دکان ہے ، کریانے کی ، بزبان فرنگی جسے گروسری کہ لیں ، وہاں پر موبائل کے کارڈ بھی ملتے ہیں ، ایک دن دوکاندار سے پوچھا کہ کتنے کارڈ نکل جاتے ہیں دن میں ، کہنے لگے تین سے پانچ ہزار کے ، اور اوسط کہیں تو تین ہزار کے لازمی بکتے ہیں ، اور پھر میں نے حساب لگانا شروع کیا ۔ ۔

اگر آپ سو روپے کا لوڈ کرتے ہیں تو آپ کے اوسط 15 روپے کٹتے ہیں ، یاد رہے یہ اس کے علاوہ ہیں جو ہم فی کال پر ٹیکس دیتے ہیں ۔ میں کہوٹہ میں رہتا ہوں ، جی ایٹمی پلانٹ والا کہوٹہ ، جو ایک بہت ہی چھوٹا سا شہر ہے ، تقریباَ پانچ لاکھ کی آبادی ہو گی ، اس میں ایسی کوئی پانچ ہزار دوکانیں ادھر ہونگیں جہاں سے کارڈ ملتا ہے اور اگر میں کہوں کہ ہر دوکان پر تین ہزار کے کارڈ روز بکتے ہیں تو غلط نہیں ہو گا ، اب آئیں ذرا حساب کرتے ہیں

ایک دوکان کی روزانہ بکری : 3,000
صرف کہوٹہ میں روز کی بکری : 3000 5000x تو حاصل ہوئے 15,000,000 یعنی ایک کروڑ پچاس لاکھ
کہوٹہ سے حاصل شدہ ٹیکس ؛ 15 فیصد کے لحاظ سے ساڑھے ستائیس لاکھ 2,700,000
اب آتے ہیں کہ ایسے دوکانیں راولپنڈی اور اسلام آباد میں کتنی ہوں گیں اور پورے پاکستان میں کتنی ہونگی ؟ پریشان نہ ہوں ہم ایک رف سا اندازہ لگاتے ہیں
پورے پاکستان میں بکری اگر ایک کھرب کی ہو تو (جو بہت ہی کم ہے اصل سے ) تو پندرہ ارب روز کی آمدن یعنی ایک مہینے میں پانچ کھرب کی آمدن اور سال کی ساٹھ کھرب
ارے ارے آپ اچھلیں نہیں ابھی یہ صرف موبائیل کارڈ کی بات ہوئی ہے آتے ایک اور چھوٹے سے ٹیکس کی طرف جسے چنگی کہا جاتا ہے
ایک چنگی پر ایک گاڑی گزرنے کا اوسطَ بیس روپے لیا جاتا ہے اور ٹرک بس کا سو روپے سے لیکر پانچ سو تک بھی ہے ، چلیں ایک چنگی پر چلتے ہیں ، جو کہ کم مصروف چنگیوں میں شمار ہوتی ہے ، سہالہ اور کشمیر کی طرف جانے والی ٹریفک چنگی یہاں روز تقریبا دس ہزار گاڑیاں گزرتیں ہیں اور اوسط تیس روپے دیتیں ہیں ، جس میں ہم فرض کرتےہیں کہ حکومت کو ملتے ہیں صرف پانچ روپے ، یعنی صرف پچاس ہزار ، ایسی چنگیاں جو ہائی وے یا مصروف والیں ہیں انپر اوسط ایک لاکھ گاڑیاں گزرتیں ہیں (آنے والی اور جانے والی) تو ہم پانچ ہی لیں تو پچاس لاکھ ، اگر سارے پاکستان میں ایسی صرف دس ہزار چنگیاں ہوں تو ایک دن کی آمدن ہوگی پانچ کھرب ، تو مہینے کی ہوئی ایک سو پچاس کھرب اور سال کی یعنی دو ہزار کھرب ۔ ۔ ۔۔ ۔

اب ان دونوں آمدن کو اکھٹا ملائیں یعنی بس دو ہزار کھرب حاصل ہوئے کہاں سے ؟ صرف دو جگہ سے اور اب اگر آپ سب کو اکھٹا کریں جو ٹیکس ہم دیتے ہیں ، تنخواہوں پر ، پانی پر بجلی پر گیس پر تو کم سے کم بھی روز کی آمدن ہزار کھرب سے کم نہیں

کیا ہم امیر قوم نہیں ؟ جو اتنا ٹیکس دیتے ہیں مگر صرف حکمرانوں کی جیبوں پر اور امریکہ جیسے حرام خور کو آئی ایم ایف کی شکل میں سود در سود دے رہے ہیں ، لعنت ہے اس پر جو یہ ٹیکس دیتا ہے اور پھر بھی کہتا ہے کہ پاکستان کو ابھی اور قرضوں کی ضرورت ہے اور ہمارا گزارا نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔

میں مزید تجزیہ بھی دے سکتا ہوں مگر کیا آپ خود نہیں سوچتے ؟

مہربانی کر کہ سوچیے گا کہ آپ کی محنت کون کھا رہا ہے ، امریکہ اور آپ کے حاکم ، جنکے تلوے چاٹ چاٹ کہ ہمارے ممبران تھکتے نہیں ۔ ۔ ۔ کمینے کہیں کے، اب سوچیے گا ضرور کہ ہم امریکہ کا نہیں کھاتے بلکہ امریکہ ہمارا دیا ہوا کھاتا ہے اور حرام کھاتا ہے ۔ ۔ ۔حرامی ۔ ۔ ۔

میرے بے غیرت اور بدنصیب ہم وطنو

صدر زرداری کا وہ خطاب جو انہوں نے اسامہ کی ہلاکت کے بعد کرنا تھا مگر امریکہ نے اجازت نہیں دی کہ ابھی وقت نہیں آیا
تنبیہ ؛ یہ کالم پڑھنے کے لئے آپ کو بہت ایمانداری سے دل کو تھامنا ہو گا

میرے بے غیرت اور بدنصیب ہم وطنو

خدا تمہاری بے غیرت میں دن دگنی رات چُگنی ترقی کرے ،
آج میں تم سے اس لیے مخاطب ہو رہا ہوں کہ آج ہم نے بے غیرتی کی ایک اور معراج حاصل کر لی ہے ، ہمارے آقاؤں نے ہمارے گھر میں گھُس کر اپنے ساتھ لائی ہوئی لاش کو گولی مار کہ ہمیں بے عزتی کے عظیم مرتبے پر فائض کیا ہے ، ہماری آنکھوں میں ڈالروں کی دھول جھونک کہ ہماری ہی سرزمین کی بالکل اسی طرح بے حرمتی کی جیسے ہمارے یہاں کے طاقت ور وڈیرے اور چوہدری کسی کی جوان بہن بیٹی یا بیوی کی کرتے ہیں ، ہم نے دنیا کو نیا طریقہ کار دیا ہے ، کہ بے حرمتی چاہے کسی کی بھی ہو دھرتی ماں کی ہی سہی یا اپنی ماں کی ہی ، اس کے بدلے میں ڈالر ملنے چاہییں ، ویسے بھی یہ عزت لٹنا کچھ نہیں ہوتا ، زندگی کے مزے لینے چاہیے ، آپ کو یاد ہو گا کہ میرے رہنما و رہبر جنرل پرویز مشرف بھی کہتے تھے کہ ہمیں اب موڈرن ہو جانا چاہیے ، یہ عزت غیرت وغیرہ کچھ نہیں ہوتا ، مجھے دیکھو میں نے اپنی بیوی کو مار کہ صدارت حاصل کی ہے اور اب کوئی بھی مجھے نہیں ہلا سکتا ، بس ایک جئے بھٹو یا زندہ ہے بی بی کا نعرہ لگا دیتا ہوں ، تو تم سارے مجھے سجدے تک کرنے لگتے ہو ،
اور اگر میں پاکستان کھپے کا نعرہ لگا دیتا ہوں تو تم لوگ مجھے کیا کیا بنا دیتے ، میں تمہاری بے وقوفیوں پر مسکراتا ہوں تم فدا ہو جاتے ہو ، میں تمہاری ماں بہن ایک کر دیتا ہوں ، تم خوشی کے مارے ناچتے پھرتے ہو

بے غیرتو ، مجھے تم پر ناز ہے ، تم مجھے پیسے دیتے ہو ، اپنے ہر عمل سے ، حتہ کہ اب تم رفع حاجت کے لئے بھی جاتے ہو تو اس میں بھی میرا حصہ ہوتا ہے ، میں تم سے بہت خوش ہوں ، تم جتنے بے غیرت بے حس ہو گے اتنا میری دولت میں اضافہ ہو گا ، میں تمہیں اندھیرے دیتا ہوں ، تم مجھے روشنیاں دیتے ہو ، میں تمہارے چولہے بند کرتا ہوں تم مجھے طرح طرح کے کھانے کھلاتے ہو ، میں تمہارے سفر کو ناکام کرتا ہوں ، تم مجھے دنیا بھر میں گھومنے کے لیے اسپانسر کرتے ہو ، میں تمہارے بچوں کے اسکول تباہ کرواتا ہوں ، تعلیم چھینتا ہوں ، تم بلاول ، بختاور کی فیسیں دیتے ہو

کمی کمینو ، میں تم سے آٹا ، چینی ، گھی ، پٹرول دور کرتا جا رہا ہوں ، تم میرے نزدیک آتے جا رہے ہو ، میں تمہاری دھرتی ماں کو بیچ رہا ہوں اور غیر اسکی عزت لوٹ رہے ہیں ، تم جئے بھٹو کے نعرے لگا کر میرا دل خوش کر رہے ہو ، ایک زرداری سب پر بھاری اور چاروں صوبوں کی اولاد ، زرداری کی اولاد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آخر میں میں اپنے ساتھیوں کی طرف سے بھی تمہاری بے غیرتی کو سات سلام کرتا ہوں ، میرے ساتھی بھی اب بے غیرتی کی معراج کو پہنچ چکے ہیں ، جن میں رحمان ملک سب سے آگے ہے ، اب تو ق لیگ اور متحدہ بھی ہمارے ساتھ ہے ، کیونکہ بے غیرت بے غیرتوں کے ساتھ ہی رہ سکتا ہے ، ویسے تو ن لیگ اور دوسرے بھی بے غیرت ہیں ، مگر ابھی وہ پورے ننگے نہیں ہو سکے ، مگر میں نے تو ہر قسم کے پردوں سے آزادی حاصل کر لی ہے ، اور مجھے خوشی ہے کہ میری قوم بھی اب ساری کی ساری ننگی ہے ، اسلئے کوئی ہمیں اب ننگ قوم نہیں کہ سکتا ۔ ۔ ۔۔ ۔

اب سارا پاکستان ایک نیوڈ بیچ ہے ، جس میں سب ننگے ہیں ، لہذا اب کسی کو شرمانے کی ضرورت نہیں ، بس مزے کرو ایک دوسرے کے ساتھ ۔ ۔۔ اور جئے بھٹو کے نعرے لگاؤ ، اور ہاں خوش رکھو اور خوش رہو ۔ ۔ ۔۔ جھکتے رہو اور پاتے رہو مزے زندگی کے ، ایسا تو شاہ رنگیلے نے بھی نہیں کیا تھا ۔ ۔۔ ۔۔

اب قومی ترانہ بھی میرا ہی ہے ، میں آج سے پاکستان کا نام بے غیرتستان رکھتا ہوں ، بے غیرتو ۔ ۔ ۔ ۔ گھر میں بیٹھو مزے کرو میں تو چلا حلف دلوانے اپنے نئے کنجروں کو ۔ ۔ ۔ کنجرستان زندہ باد بے غیرستان پائیندہ باد ، زندہ ہے بی بی زندہ ہے ، جئے بھٹو ، لٹو تے پُھٹو ۔ ۔ ۔

زبان ناپاک ہوتی ہے

انکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ریوڑ کی شکل میں رہتے ہیں ، اور انکا ایک لیڈر ہوتا ہے ، جو اپنی تھوتھنی اٹھا کر ان سب کی رہبری کرتا ہے ، مگر انکی ایک اور بھی خصوصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ ہر کوئی خود کو لیڈر سمجھتا ہے ، اور چاہے کتنی کھلی جگہ پر یہ ہوں ایک دوسرے کو رگڑتے رہتے ہیں ، یہ عجیب جانور ہے جسے گندگی پسند ہے ، جب کچھ بھی نہ ملے تو اپنا فضلہ بھی کھا لیتا ہے ، جس جگہ رہتا ہے اسے گندا کرتا ہے ، جو لوگ اسے کھاتے ہیں ، انہیں سب سے بڑا مسلہ ہی اسکے گوشت کو صاف کرنے کا ہوتا ہے ، یہ بیماریوں کا باعث بنتا ہے نہ صرف انسانوں کے لیے بلکہ جانوروں کے لیے بھی ، مگر یہ پھر بھی پالا جاتا ہے ، اسے کھایا جاتا ہے ، اسے ایک خوبصورت شکل دی جاتی ہے ، مگر یہ اپنی خصلتیں نہیں بدلتا ، بدلے بھی تو کیسے کہ یہ تو جانور ہے ، اسکا سب سے زیادہ کام کھڑی فصلیں تباہ کرنا ہے ، انکا ریوڑ جب بھاگتا ہے تو نہیں دیکھتا کہ آگے کیا ہے اور سب کچھ روندتا چلا جاتا ہے ، یہ جانور دوسرے تمام جانوروں سے مختلف طریقے سے اپنی افزائش کرتا ہے ، ایک مادہ کتنے ہی نروں کے ساتھ ہوتی ہے اور یہ واحد جانور ہے جو مادہ نہ ملے تو نر کو یہ تختہ مشق بنا لیتا ہے ، اس معاملے میں یہ بہت تمیز سے قطار بنا لیتا ہے کہ میری باری آ جائے گی

آپ بھی سوچیں گے کہ مجھے آج کیا سوجھی ، آج میں نے اپنے حاکموں دیکھا تو یہ بالکل اس جانور جیسے لگے ، یہ بھی گندگی سے لتھڑے ہوئے ہیں ، مگر ایک دوسرے کو چاٹ رہے ہیں ، اقتدار کے لئے قطار بنا کر کھڑے ہیں ، اور عوام سے انکا دور کا واسط نہیں ، اب کیا کروں کہ میں نہ اپنے حاکموں کا نام لے سکتا ہوں ، اور نہ اس جانور کا کہ زبان ناپاک ہوتی ہے

شعائر اسلای کی بے حرمتی کے تدارک کی تگ و تاز

میرے دوست انجنیئر سرفرازاحمد ضیغم کی یہ تحریر شاید ہمارے لئے گریبان میں جھانکنے کا موقعہ دے
——————————————————————————————- امریکہ کی ریاست فلو ریڈامیں ملحدپادریوں نے قرآن مجیدفرقان حمید کے نسخے کو نذر آتش کر دیا۔خبر کے مطابق متنازعہ عیسائی مبلغ ٹیری جونز نے اپنے ناپاک جسارت کے اس منصوبے پر عمل کر دیاجس کے تحت اس نے ستمبر میںمسلمانوں کو خبر دار کیا تھا کہ وہ اپنی کتاب کی حفاظت کرلیںاور اس کا دفاع کریں۔ ٹیری جونز کاخباثتوں سے لبریز بیان ہے کہ اسے مسلمانوں کیطرف سے کوئی جواب موصول نہیںہوا ۔اور اس نے فلوریڈا کے ایک چھوٹے چرچ میں عیسائیوں کی ایک جیوری میں دس منٹ تک قرآن پاک کے سزا اور جزا کے حوالے سے بحث کے عمل کے بعداس ملعون نے قرآن پاک پر مقدمہ چلایا اور فرد جرم عائد کرتے ہوئے پھانسی کی سزا سنائی۔اس موقع پر اللہ کے کلام کوایک گھنٹے تک مٹی کے تیل میں ڈبوئے رکھا اور بعد ازاں پیتل کے ایک ٹرے میں چرچ کے عین درمیان رکھا گیا۔چرچ کے شیطان صفت پادری نے چند دیگر ملعونوں کی موجودگی میں قرآن پاک کے نسخے کو آگ لگا دی۔واضح رہے کہ ملعونوں کی اس تقریب میں عام لوگوں کو بھی دعوت دی گئی تھی لیکن صرف تیس لوگوں نے شرکت کی جبکہ گینز ویلے شہر میں زندگی معمول کے مطابق چلتی رہی۔ چند لوگوں نے جلتے قرآن مجید کے نسخے کے فوٹو بھی بنائی۔ اپنے گلے میں لعنت کا طوق ڈالنے والے بدبخت اور بدنصیب ٹیری جونز کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب اس کی ستمبر کی وارننگ کے بعد مسلمانوں کی طرف سے کو ئی جواب نہ ملا تو اس نے سوچا کہ حقیقی سزا دیئے بغیر حقیقی ٹرائل نہیں ہو سکتا اس لیے (نعوذ بااللہ) اس نے قرآن مجید کو سزا دے دی ہی۔
شعائر اسلامی کی تضحیک و توہین کا یہ پہلا اورخاکم بدہن !کوئی آخری واقعہ نہیں ہے ۔ قبل ازیںاس حوالے سے بڑے بڑے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ ہر نئے واقعے پر مسلمانوں کے اضطراب اور احتجاج میں اضافہ ہی دکھائی دیتا ہے اور عام مسلمان غازی یا شہید کے منصب پر فائز بھی ہو جاتاہی۔ لیکن مسلمان حکمرانوں کا اسطرح کے واقعات پر ردِ عمل سوائے گونگلوئوں سے مٹی جھاڑنے سے زیادہ نہیں ہے ۔وہ معذرت خوانہ روئیے کے ساتھ سوائے مذمت کے کسی اور حرکت کو بڑی جسارت سمجھتے ہیں ۔کیونکہ ان کا مطمع نظر یہی ہے کہ اپنے اقتدار کے عرصہ کو دوام دیا جائے ۔اور کسی بھی ایسی حرکت یا پالیسی سے اجتناب کا راستہ اختیار کیا جائے جس سے عالمی سطح پر اقتدار ساز قوتوں کی دل آزاری کا کوئی پہلو اجاگر ہوتا ہو ۔ امریکہ کی ریاست فلوریڈا کے چھوٹے چرچ کے چھوٹے اور جھوٹے پادری ٹیری جونز نے قرآن پاک نذر آتش کرنے کی جو ناپاک حرکت کی ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے ۔مقتدراور معتبر حلقہ جات کی جانب سے بھر پور مذمت کا سلسلہ ھنوز جاری ہے ۔مذکورہ ملعون نے اپنے بونے قد کو اونچا کرنے کے لیے اور سستی شہرت کے حصول کے لیے لعنت کا طوق اپنے گلے میں ڈالا ہی۔اس طرح وہ ساڑھے پانچ ارب انسانوں کے قلبی جذبات کی توہین کا مرتکب ہوا ہی۔دنیا بھر کے صاحبانِ ادراک قرآن مجید کے اس حسن کے قائل ہیں کہ صاحبِ قرآن سیدنا محمدؐ فخر بنی آدم ہیں۔اور اللہ تعا لٰی عزوجل نے آپ کو تمام جہا نوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے ۔اور قرآن مجید میں رب العزت کے اس احسان کو کون فراموش کرنے کی جسارت اور جرات کر سکتا ہے کہ ’’اللہ تعا لٰی نے انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا ہے ‘‘۔گویا ٹیری جونز زمانے کا ابو جہل ہے اور قرآن مجید کی تعلیمات کو سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہے ۔وہ ایک جنونی شخص ہے مخبو ط الحوا سی کے عالم میں ہے ۔وہ عیسائیت کا بدمذ ہب ہی۔وہ انتہا پسند ہے ۔وہ بین الا قوامی سطح کی بین المذاہب ہم آہنگی کے مشن کو سبو تاژ کرنے والا وہ شخص ہے جو دنیا بھر کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کو با ہم بر سر پیکار کرنے کا مرتکب ہوا ہے ۔اس نے عالمی امن کے خلاف سازش کی ہے ۔وہ خصائل رزیلہ کا حامل ،فسطا ئیت کا نما ئندہ اور ابلیسیت کا تر جمان ہے ۔البتہ ہمارا ایقان اور ایمانی وجدان ہے کہ اس نے جس آگ کو ہوا دے کر شعلہ دیا ہے اس کے انگاروں میں وہ خو جلے گاجس کا تماشہ دنیا دیکھے گی کیو نکہ قرآن مجید فطرت کے افکار کا ترجمان ہے ۔رب العزت اسکا پا سبان ہے اس سے قبل کہ دنیا کا قانون حرکت کرے وہ قا نونِ فطرت کی زد میں ضرور آئے گا اور بہت جلد اس کی بیخ کنی کے عمل کا آغاز ہو جا ئے گا ۔البتہ ہم مقتدر حلقہ جات اور دنیا بھر کے حکمرانوں کی توجہ مبذول کروانا چا ہتے ہیں کہ مذ کورہ واقعہ ہا بیل کے قتل سے بھی بڑا واقعہ ہے ۔اور انسانی تاریخ کے خوبصورت ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے ۔قابیل انسا نیت کا پہلا قاتل ہے ۔ٹیری جونز آج کے گلوبل ویلج کا وحشی قابیل ہے جس نے قابیل کے بعد فساد فی الا رض کا فتنہ برپا کیا ہی۔وہ عالمی مجرم ہی۔وہ انتہا پسندی کی انتہا ئی خطر ناک طرز کا موجد اور بانی ہے ۔ٹیری جونز کا یہ قبیح عمل اس بات کا مکمل عکاس اور غماز ہے کہ انتہا پسندی دیگر مما لک کے بجائے امریکہ اور یورپی ممالک میں زیادہ ہے ۔یہ ملعون اس سے قبل بھی قرآن مجید کو جلانے کے اعلانات کرتا رہا ہی۔امریکی حکومت اسے روکنے کے لئے اپیلیں کرتی رہی لیکن اس کے عزائم کو انتہا پسندی نہ تصور کیا گیا۔دنیا ئے عیسا ئیت کے ایک فرقے کے سر براہ پوپ بینی ڈکٹ کی زبان بھی اب تک گنگ ہے ۔حا لانکہ ملعونہ آسیہ بی بی کے معاملے میں وہ سیخ پاہے ۔ہم طالبان یا القا ئدہ کو مسلمانوں کا نمائندہ یا ترجمان نہیں سمجھتے ۔عالمی سطح پر ان کی سرگرمیاں عالمی امن کی دھجیاں بکھیر رہی ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ آج تک انھوں نے بھی کسی نبی یا الہامی کتاب کی بے حرمتی نہیں کی ۔ٹیری جونز پادری کہلاتا ہے ۔لیکن اس نے قرآن مجید کو جلا ڈالا۔پنجاب کے وزیر کامران ما ئیکل نے اسے نام نہاد پادری کا نام دیا ہے ۔اور صوبائی اسمبلی میں قراردادِ مذمت لائی گئی ہے ۔دیگر عیسائی برادری حصہ بقدر جسہ سے بڑھ کر ٹیری جونز کی مکروہ حرکت کی مذمت کے ساتھ ساتھ سراپا احتجاج ہے ۔ملک بھر کے علماءِ کرام ،مشا ئخ عظام،طلبا،وکلاء صحافی ،تاجربرادری اور تمام لوگ سڑکوں پر ہیںلیکن حکومت کی طرف سے امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے ابھی تک روائتی احتجاج کا تکلف بھی نہیں کیا گیا ۔سلسلہ ہذا میں مفکر اسلام علامہ سید ریاض حسین شاہ مر کزی ناظمِ اعلٰی
جما عتِ اہل ِ سنت پا کستان کا مطا لبہ میرٹ کے عین مطابق ہے کہ اگر امریکی سفیر کو ایک ہفتہ کے دوران پاکستان سے نہ نکالا گیا تووہ کراچی سے ملک گیر لانگ مارچ شروع کریں گی۔
ہم قارئین کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے چا رٹر کی روشنائی صرف طاقت وروں کے لئے روشنائی ہے لیکن مسلمانوں اور مسلمان مما لک کے لئے وہ صرف سیا ہی ہے ۔اقوام متحدہ کا یہ ضابطہ حیات موجود ہے کہ ہر قوم دوسری اقوام اور مذہب کا احترام کرے گی علا وہ ازیں امریکہ اور پاکستان کے مابین extratition terrotiryنا می معا ہدہ موجود ہے جو مجرموںکے تبادلے پر مشتمل ہے یعنی اگر کو ئی پا کستانی جرم کرے اور وہ امریکہ کو مطلوب ہو تو پاکستان اسے امریکہ کے حوالے کرنے کا پابند ہے اور با لکل اسی طرح اگر کو ئی امریکی جرم کرے اور وہ پاکستان کو مطلوب ہو تو امریکہ اسے پا کستان کے حوالے کرنے کا پابند ہے ۔ایمل کانسی کو اسی معاہدہ کی روشنی میں امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹیری جونز ہمارا مجرم ہے کیا پاکستانی حکومت ٹیری جونز کی پاکستان حوالگی کے معاملے میں امریکہ سے مطا لبہ کرے گی؟۔کیا دیگر اسلامی مما لک سلسلہ ہذا میں اپنا کردار ادا کریں گی؟۔بہر حال ہم اپنی رائے کا اظہار کرنے سے اس لئے قاصر ہیں کہ ہم مسلمانوں کو مزید ما یوس نہیں کرنا چاہتے اور دعا بھی کرتے ہیں کہ ہمارے چھپی ہوئی رائے غلط ثا بت ہو جائے ۔
امریکہ کی یہ چال کون سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ مخصوص انداز سے اپنے نیو ورلڈ آرڈر کی تکمیل کے لیے مر حلہ وار پیش قدمی کر رہا ہے ۔وہ آہستہ آہستہ اسلامی قوت کی بیخ کنی کے پلان پر عمل پیرا ہے ۔کابل اور بغداد پر سی۔آئی۔اے بر سرِ اقتدار ہے ۔امریکہ دنیا بھر میں حکمران طبقہ جات کا سب سے بڑا خریدار ہے ۔جہاں کے حکمران اس کی دسترس سے باہر ہوں وہاں اپوزیشن سے سودے بازی کر لیتا ہے ۔تیونس،مصر،یمن اور لیبیا ء میں موجودہ شو رو غل چند دنوں کا نہیں بلکہ سالہا سال کا منصوبہ ہے ۔لیبیا پر نیٹو افواج نے دھا وا بول دیا ہے ۔عالمی اسلامی ردِ عمل سے بچنے کے لئے یہ کہنا دشوار نہیں کہ مسلمانوں کی توجہ لیبیا ء سے ہٹانے کے لئے ٹیری جو نز کی حما قتوں سے فائدہ اٹھالیا گیا ہو۔
المختصر!۔
شعا ئر اسلامی کی ایک تسلسل کے ساتھ بے حر متی اپنی جگہ پر عا لم اسلام کے اعصاب شل کرنے کی بڑی منصوبہ بندی ہے ۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس کے مئو ثر تدارک کے لئے مسلمان عالمی سطح پر کوئی بڑی حکمتِ عملی ترتیب نہیں دے سکی۔اس مو قع پر او۔آئی۔سی کا کردار مایوسی کی منہ بولتی تصویر سے زیادہ اہمیت کا حا مل نظر نہیں آتا۔ضرورت اس امر کی ہے مندرجہ زیل تجا ویز کو غور کے عمل سے گزارہ جائی۔
1. ۔تمام اسلامی ممالک کی مذہبی امور کی وزارتوں کے وزراء خانہ کعبہ میں اکھٹے ہو جا ئیں ۔’’عالمی اسلامی تنظیم تحفط ناموس اسلام‘‘ کے قیام کا اعلان کریں۔بعد ازاں مدینہ شریف میں بارگاہِ رسالت مآب ؐ میں حاضر ہو کر اور سرکار ِ کائنات سیدنا مصطفٰی کریم ؐکو گواہ بنا کر نصب العین کیساتھ استقا مت اور اخلاص کا عہد کریں۔یہ تنظیم تمام اسلامی ممالک میں سرکاری سرپر ستی میں کام کرے ۔دیگر ممالک میں اس کے دفاتر قائم کئے جائیں ۔اقوام ِ متحدہ کے دفاتر کے نیٹ ورک میں بھی دفاتر قائم کرنے کی جدو جہد کی جائی۔
2. ۔ قرآن مجید کو نذر ِآتش کرنے کے اس واقعہ پر عالمی اسلامی سطح پر اعلٰی سطحی سنجیدگی کا مظا ہرہ کیا جائے اور اس کے مئو ثر حل کے لئے سلامتی کونسل کا اجلاس بلوانے کا مطالبہ کیا جائے کیو نکہ مذہبی مسائل پر جو تنا ئو پیدا ہوتا ہے وہ کسی اور معا ملے پر پیدا نہیں ہوتا۔لہٰذا اس واقعے کو عالمی امن سے تعبیر کیا جائے ۔عالمی سطح کا مسلما نوں کا مئو ثر احتجاج امریکہ کو اس بات پر مجبور کر سکتا ہے کہ وہ ٹیری جونز کے خلاف تادیبی کاردائی کری۔
3. ترقی یافتہ ممالک کے مسلمان وہاں کی اعتدال پسند عیسا ئی کمیو نٹی سے رابطے بڑھا کر انھیں قرآن مجید کے اس پیغام سے روشناس کرائیںکہ قرآن انسانیت نوازی کا درس دیتا ہے ۔اس کے ما ننے والے مسلمان سیدنا عیسٰی علیہ السلام اور حضرت سیدہ مریم کے احترام کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔لہٰذا دنیا بھر کی عیسائی برادری ٹیری جونز کی جارحانہ کار وائی سے مکمل لا تعلقی کا اعلان کرے اور اس کی مذمت کرے نیز اسے کیفر کردار تک پہنچا نے کے مطالبے پر اسلامی برادری کا ساتھ دی۔
4. پاکستان کی حکومت ’’امن جرگہ‘‘ تشکیل دے جو امریکہ جا کر اوبامہ انتظا میہ کو ٹیری جونز کے خلاف مئوثر کاروائی پر آمادہ کرے ۔جرگہ میں مسلمانوں کے علاوہ عیسا ئی برادری کے ان رہنما ئوں کو شامل کرے جو امریکہ میں اپنا اثر ورسوخ رکھتے ہوں۔
5. موقع کا اس مناسبت سے دنیا بھر کے مسلمانوں سے انکی ایما نیات ،دینی جذ
بے اور قرآن مجید فرقانِ حمید ،برہانِ رشید سے قلبی لگائو کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہو ئے درد مندانہ اپیل کرتا ہوںکہ وہ قرآن مجید کو طاق نسیاں سے اٹھا لیں ۔غلاف پر موجود گرد جھاڑ لیں ترتیل تلا وت کو اپنا معمول بنائیں ۔یقین جانیں آپ کا یہ عمل حرمت ِ قرآن کا باعث ہوگا اور اس طرح تمام بے نوریاں کافور ہو جا ئیں

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 30 other followers